۵۲۵۷ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنِ الْمِقْسَمِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ اسْتَعْمَلَ أَرَقْمَ بْنَ أَرْقَمَ عَلَی الصَّدَقَاتِ ، فَاسْتَتْبَعَ أَبَا رَافِعٍ ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہٗ فَقَالَ یَا أَبَا رَافِعٍ ، اِنَّ الصَّدَقَۃَ حَرَامٌ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَاِنَّ مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِہِمْ .
٥٢٥٧: مقسم نے ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارقم بن ارقم کو صدقات کا عامل بنایا تو انھوں نے ابو رافع (رض) جو ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ ابو رافع جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ سے اجازت مانگی تو آپ نے ارشاد فرمایا۔ اے ابو رافع صدقہ محمد اور آل محمد پر حرام ہے اور قوم کا غلام انہی میں سے ہوتا ہے۔
تخریج : مسند احمد ٦؍٨۔