hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 526

.

الطحاوي

526
Al Tahawi
۵۲۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ زُرْعَۃَ، عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ ڑالنَّاقِدُ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : ثَنَا أُبَیٌّ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَذَکَرَ مِثْلَہٗ .فَقَالُوْا فَبِھٰذِہِ الْآثَارِ رَخَّصَنَا لِلَّذِیْ یُسَلَّمُ عَلَیْہِ وَہُوَ غَیْرُ طَاہِرٍ أَنْ یَتَیَمَّمَ وَیَرُدَّ السَّلَامَ، لِیَکُوْنَ ذٰلِکَ جَوَابًا لِلسَّلَامِ .وَھٰذَا کَمَا رَخَّصَ قَوْمٌ فِی التَّیَمُّمِ لِلْجِنَازَۃِ وَلِلْعِیْدَیْنِ، اِذَا خِیْفَ فَوْتُ ذٰلِکَ اِذَا تُشُوْغِلَ بِطَلَبِ الْمَائِ لِوُضُوْئِ الصَّلَاۃِ. وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٥٢٦: ابن اسحاق نے عبدالرحمن الاعرج اور انھوں نے عمیر مولیٰ ابن عباس (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ ان آثار سے یہ رخصت ثابت ہوئی کہ جس کو سلام کیا جائے اگر وہ پاک نہ ہو تو تیمم کر کے سلام کا جواب دے تاکہ سلام کا جواب ہوجائے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ کچھ علماء نے جنازہ اور عیدین کے فوت ہونے کا خطرہ ہو یا پانی کی تلاش میں مشغولیت سے نماز کے چلے جانے کا ڈر ہو تو تیمم کو جائز قرار دیا اور یہ روایات بیان کیں۔
حاصل روایات :
ان چاروں روایات میں تیمم کر کے سلام کے جواب کا ذکر موجود ہے معلوم ہوا کہ سلام میں ضرورۃً تیمم شہر کے اندر بھی کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ میں وضو بہرحال ضروری ہے۔
اور سلام کی نظیر جنازہ و عیدین ہیں کہ جب ان کے فوت ہونے کا خطرہ ہو تو تیمم کر کے نماز میں شامل ہوجائے کہ ان کا بدل نہیں۔