hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5260

.

الطحاوي

5260
Al Tahawi
۵۲۵۹ : حَدَّثَنَا رَبِیْعُ بْنُ سُلَیْمَانَ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسٰی‘ قَالَ : ثَنَا وَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ کُلْثُوْمٍ ، ابْنَۃِ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، فَقَالَتْ : اِنَّ مَوْلًی لَنَا یُقَالُ لَہُ ہُرْمُزُ ، أَوْ کَیْسَانُ ، أَخْبَرَ أَنَّہٗ مَرَّ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَدَعَانِیْ فَقَالَ یَا أَبَا فُلَانٍ ، اِنَّا أَہْلُ بَیْتٍ قَدْ نُہِیْنَا أَنْ نَأْکُلَ الصَّدَقَۃَ ، وَاِنَّ مَوْلَی الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِہِمْ ، فَلَا تَأْکُلْ الصَّدَقَۃَ .فَلَمَّا کَانَتِ الصَّدَقَۃُ الْمُحَرَّمَۃُ عَلَی بَنِیْ ہَاشِمٍ ، قَدْ دَخَلَ فِیْہِمْ مَوَالِیْہمْ ، وَلَمْ یَدْخُلْ مَوَالِیْہمْ مَعَہُمْ فِیْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی بِاتِّفَاقِ الْمُسْلِمِیْنَ ، ثَبَتَ بِذٰلِکَ فَسَادُ قَوْلِ مَنْ قَالَ اِنَّمَا جُعِلَتْ لِذَوِی الْقُرْبَی فِیْ آیَۃِ الْفَیْئِ ، وَفِیْ آیَۃِ خُمُسِ الْغَنِیْمَۃِ ، بَدَلًا مِمَّا حَرَّمَ عَلَیْہِمُ الصَّدَقَۃَ .وَیَفْسُدُ ہٰذَا الْقَوْلُ أَیْضًا مِنْ جِہَۃٍ أُخْرَی ، وَذٰلِکَ أَنَّا رَأَیْنَا الصَّدَقَۃَ لَوْ کَانَتْ حَلَالًا لِبَنِیْ ہَاشِمٍ ، کَہِیَ لِجَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَ ، لَکَانَتْ حَرَامًا عَلٰی أَغْنِیَائِہِمْ ، کَحُرْمَتِہَا عَلٰی أَغْنِیَائِ جَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَ مِمَّنْ سِوَاہُمْ .وَقَدْ رَأَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَدْخَلَ بَنِیْ ہَاشِمٍ فِیْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَیْ جَمِیْعًا ، وَفِیْہِمُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ ، وَقَدْ کَانَ مُوْسِرًا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَالْاِسْلَامِ جَمِیْعًا .أَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ تَعَجَّلَ مِنْہُ زَکَاۃَ مَالِہِ عَامَیْنِ ؟ فَلَمَّا رَأَیْنَا یَسَارَہُ لَمْ یَمْنَعْہُ مِنْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی ، وَکَانَ ذٰلِکَ الْیَسَارُ یَمْنَعُہٗ مِنِ الصَّدَقَۃِ قَبْلَ تَحْرِیْمِ اللّٰہِ اِیَّاہَا عَلَی بَنِیْ ہَاشِمٍ ، فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ سَہْمَ ذَوِی الْقُرْبَی لَمْ یُجْعَلْ لِمَنْ یُجْعَلُ لَہُ خَلَفًا مِنِ الصَّدَقَۃِ الَّتِی حُرِّمَتْ عَلَیْہِ .وَأَمَّا الَّذِیْنَ ذَہَبُوْا اِلٰی أَنَّ ذَوِی الْقُرْبَی فِی الْآیَتَیْنِ اللَّتَیْنِ قَدَّمْنَا فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْکِتَابِ ، ہُمْ بَنُوْ ہَاشِمٍ ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ خَاصَّۃً .فَاِنَّہُمْ احْتَجُّوْا لِقَوْلِہِمْ بِمَا رَوَی جُبَیْرُ بْنُ مُطْعِمٍ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ .
٥٢٥٩: عطاء بن سائب کہتے ہیں کہ میں حضرت امّ کلثوم بنت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے فرمایا ہے ہمارے ایک غلام کا نام ہرمز ہے یا کیسان ہے۔ اس نے بتلایا کہ میرا گزر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ہوا آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا اے ابو فلاں۔ ہم اہل بیت نبوت کو صدقہ کھانے سے منع کیا گیا ہے اور قوم کا غلام انہی سے ہوتا ہے پس صدقہ مت کھانا۔ صدقہ بنی ہاشم پر جس طرح حرام ہے ان کے موالی پر بھی حرام کیا گیا ہے مگر تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ ذوالقربیٰ کے حصہ میں موالی کو داخل نہیں کیا گیا۔ اس سے ان لوگوں کی دلیل کی کمزوری ظاہر ہوگئی کہ آیت فئی اور آیت خمس غنیمت میں ذوی القربیٰ کے حصہ کی وجہ صدقہ کی حرمت ہے اللہ تعالیٰ ان کو اس کا عوض دیا ہے۔ نظر ڈالنے سے معلوم ہوا کہ اگر صدقہ تمام بنی ہاشم کے لیے عام مسلمانوں کی طرح حلال ہوتا تو ان کے مالداروں پر حرام ہو جیسا کہ عامۃ المسلمین میں مالداروں پر صدقہ حرام ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذوی القربیٰ کے حصہ میں امیر و غریب کے احتیاز کے بغیر سب ہی شامل ہیں حضرت عباس (رض) کو بھی یہ حصہ ملتا تھا حالانکہ وہ جاہلیت و اسلام دونوں میں خوشحال تھے کیا تم نہیں دیکھتے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے دو سال کی پیشگی زکوۃ طلب کی (تو زکوۃ مالدار پر لازم ہے) جب حضرت عباس (رض) کی خوشحالی ذوی القربیٰ کے حصہ سے ان کے لیے مانع نہ تھی اور یہ خوش حالی صدقے کو بنی ہاشم پر حرام ہونے سے بھی ان پر صدقہ حرام کرنے والی تھی۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ بنی ہاشم کے لیے ذوی القربیٰ کا حصہ صدقہ کی حرمت کے بدلے نہیں ہے۔ ان لوگوں کا ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ ذوی القربیٰ سے مراد دونوں آیات میں بنو ہاشم اور بنو مطلب مراد ہیں انھوں نے اپنی دلیل میں حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی روایت کو پیش کیا ہے۔