۵۲۷۸ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیُّ قَالَ : ثَنَا حُمَیْدٌ الطَّوِیْلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ قَالَ : أَوْ قَالَ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا جَائَ أَبُو طَلْحَۃَ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، حَائِطِی الَّذِی بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا ، لَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّہُ لَمْ أُعْلِنْہٗ، قَالَ اجْعَلْہُ فِیْ فُقَرَائِ قَرَابَتِکَ، وَفُقَرَائِ أَہْلِک .
٥٢٧٨: حمیدالطویل نے حضرت انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب آیت لن تنالوا البر حتی تنفقو مما تحبون “ (آ (رح) عمران۔ ٩٢) نازل ہوئی یا یہ کہا کہ آیت ” من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا “ (البقرہ۔ ٢٤٥) نازل ہوئی تو ابو طلحہ آ کر کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرا وہ باغ جو فلاں مقام پر واقع ہے۔ اگر میں اس کو چھپا سکتا ہوتا تو میں اس کو ظاہر بھی نہ کرتا۔ آپ نے فرمایا۔ اس کو اپنے غریب قرابت داروں اور فقراء اہل پر خرچ کر دو ۔
تخریج : ترمذی فی التفسیر سورة ٣‘ باب ٥‘ مسند احمد ٣‘ ١٠٥؍١٧٤۔