۵۲۹۴ : فَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ مَا حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنِ زِیَادٍ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ لَیْلَی یُحَدِّثُ عَنْ عَلِی أَنَّ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا أَتَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَشْکُو اِلَیْہِ أَثَرَ الرَّحَی فِیْ یَدَیْہَا ، وَبَلَغَہَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَاہُ سَبْیٌ ، فَأَتَتْہُ تَسْأَلُہُ خَادِمًا ، فَلَمْ تَلْقَہُ وَلَقِیَتْہَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، فَأَخْبَرَتْہَا الْحَدِیْثَ .فَلَمَّا جَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْہُ بِذٰلِکَ .قَالَ : فَأَتَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ، فَذَہَبْنَا أَنْ نَقُوْمَ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّکُمَا عَلَی خَیْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا ؟ تُکَبِّرَانِ اللّٰہَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِیْنَ ، وَتُسَبِّحَانِ اللّٰہَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ ، وَتَحْمَدَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِیْنَ ، اِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَکُمَا ، فَاِنَّہٗ خَیْرٌ لَکُمَا مِنْ خَادِمٍ .
٥٢٩٤: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے حضرت علی (رض) سے بیان کیا کہ حضرت فاطمہ (رض) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر ہاتھوں میں چکی کے اثرات کی شکایت کر رہی تھیں ان کو یہ اطلاع ملی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاں کچھ قیدی آئے ہیں تو وہ آپ سے خادم طلب کرنے آئیں چنانچہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی ملاقات نہ ہوسکی تو حضرت عائشہ (رض) سے ملاقات ہوئی انھوں نے ان کے سامنے بات ذکر کی پھر جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو عائشہ (رض) نے آپ کو اس بات کی اطلاع دی حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت ہمارے ہاں تشریف لائے جب ہم اپنے بستروں پر جا چکے تھے۔ ہم آپ کی آمد پر اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتلا دوں جو تم نے مانگی ہے ؟ ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر ‘ ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ‘ ٣٣ مرتبہ الحمدللہ اس وقت پڑھ لیا کرو جبکہ بستر پر لیٹو یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔
تخریج : بخاری فی فضائل اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باب ٩‘ والنفقات باب ٦‘ مسلم فی الذکر ٨٠‘ ابو داؤد فی الادب باب ١٠٠‘ مسند احمد ١؍٩٦۔