hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5294

.

الطحاوي

5294
Al Tahawi
۵۲۹۳ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ الْأَصْبَہَانِیُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِیْکٌ .فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : اِنَّا - أَہْلَ بَیْتٍ - لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ وَلَمْ یَشُکَّ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : أَفَلَا یَرٰی أَنَّ الصَّدَقَۃَ الَّتِیْ تَحِلُّ لِسَائِرِ الْفُقَرَائِ مِنْ غَیْرِ بَنِیْ ہَاشِمٍ مِنْ جِہَۃِ الْفَقْرِ ، لَا تَحِلُّ لِبَنِیْ ہَاشِمٍ مِنْ حَیْثُ تَحِلُّ لِغَیْرِہِمْ .فَکَذٰلِکَ الْفَیْئُ وَالْغَنِیْمَۃُ ، لَوْ کَانَ مَا یُعْطَوْنَ مِنْہَا عَلٰی جِہَۃِ الْفَقْرِ ، اِذًا لَمَا حَلَّ لَہُمْ .فَأَمَّا مَا احْتَجَّ بِہٖ أَہْلُ ہٰذَا الْقَوْلِ لِقَوْلِہِمْ ، مِنْ أَمْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاطِمَۃَ بِالتَّسْبِیْحِ ، عِنْدَمَا سَأَلَتْہُ أَنْ یُخْدِمَہَا خَادِمًا عِنْدَ قُدُوْمِ السَّبْیِ عَلَیْہِ، فَوَکَّلَہَا اِذًا ، بِمَا أَمَرَہَا بِہٖ مِنَ التَّسْبِیْحِ وَلَمْ یُخْدِمْہَا مِنَ السَّبْیِ أَحَدًا .
٥٢٩٣: محمد بن سعید اصبھانی کہتے ہیں کہ ہمیں شریک نے خبر دی پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے البتہ ہم اہل بیت کے لیے صدقہ حلال نہیں ہے اور انھوں نے یہ روایت بغیر شک کے الفاظ کے نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں کیا ان لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ جو صدقہ تمام فقراء کے لیے جو بنی ہاشم کے علاوہ ہوں حلال ہے۔ وہ بنو ہاشم کے لیے اس طرح حلال نہیں جس طرح دوسروں کے لیے حلال ہے مال فئی اور مال غنیمت کا بھی یہی حکم ہے۔ اگر ان کو یہ مال فقر کی وجہ سے دیا جاتا تو اس صورت میں حلال نہ ہوتا۔ ان حضرات کی بڑی دلیل یہ ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) نے جب قیدیوں کی آمد پر ایک خادم کی درخواست کی تو آپ نے انھیں تسبیح کا حکم فرمایا اور قیدیوں میں سے کوئی غلام مرحمت نہ فرمایا۔