hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5299

.

الطحاوي

5299
Al Tahawi
۵۲۹۸ : حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ : ثَنَا أَصْبُغُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ : وَلَا أَدْرِی ، مَا اسْمُ الرَّجُلِ ، وَلَا اسْمُ أَبِیْھَا؟ قِیْلَ لَہٗ : لَیْسَ ہَذَا حُجَّۃً لَک عَلَی مَنْ أَوْجَبَ سَہْمَ ذَوِی الْقُرْبَی ، لِأَنَّہٗ اِنَّمَا یُوْجِبُہُ لِمَنْ رَأَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیْثَارَہُ بِہٖ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ آثَرَ بِہٖ ذَا قُرْبَاہُ مِنْ یَتَامَی أَہْلِ بَدْرٍ ، وَمِنْ الضُّعَفَائِ الَّذِیْنَ قَدْ صَارُوْا لِضَعْفِہِمْ مِنْ أَہْلِ الصُّفَّۃِ .فَلَمَّا انْتَفَی قَوْلُ مَنْ رَأَیْ سَہْمَ ذَوِی الْقُرْبَی وَاحِدٌ بِجُمْلَتِہِمْ ، عَلٰی أَنَّہُمْ عِنْدَہُ بَنُوْ ہَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ خَاصَّۃً ، لَا یُتَخَطَّوْنَ اِلَی غَیْرِہِمْ وَقَوْلُ مَنْ قَالَ : اِنَّ حَقَّ ذَوِی الْقُرْبَی فِیْ خُمُسٍ فِی الْغَنَائِمِ ، وَفِی الْفَیْئِ بِفَقْرِہِمْ وَلِحَاجَتِہِمْ ، بِمَا احْتَجَجْنَا بِہٖ عَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الْقَوْلَیْنِ .ثَبَتَ الْقَوْلُ الْآخَرُ ، وَہُوَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ لَہٗ أَنْ یَخُصَّ بِہٖ مَنْ شَائَ مِنْہُمْ ، وَأَنْ یَحْرِمَ مَنْ شَائَ مِنْہُمْ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : وَمَا دَلِیْلُک عَلٰی ذٰلِکَ ؟ قِیْلَ لَہٗ : قَدْ ذَکَرْنَا مِنْ الدَّلَائِلِ عَلٰی ذٰلِکَ ، فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ ہٰذَا الْکِتَابِ ، مَا یُغْنِیْنَا عَنْ اِعَادَتِہِ ہَاہُنَا ، مَعَ أَنَّا نَزِیْدُ فِیْ ذٰلِکَ بَیَانًا أَیْضًا .
٥٢٩٨: اضبع بن فرج کہتے ہیں کہ عبداللہ بن وہب نے بیان کیا پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت ذکر کی ہے۔ البتہ اتنی بات کہی کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ آدمی کا اور اس کے باپ کا کیا نام ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تمہارے لیے ان لوگوں کے خلاف دلیل نہیں بن سکتی جو کہ قرابت داروں کے حصہ کو لازم قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ اسے ان لوگوں کے لیے واجب قرار دیتا ہے جس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ترجیح دینا مناسب سمجھیں۔ تو عین ممکن ہے کہ آپ نے اس کے ساتھ اپنے قرابت داروں میں اہل بدر کے یتیموں اور ان کمزوروں کو ترجیح دی ہو جو اپنی کمزوری کی وجہ سے اہل صفہ میں سے ہوگئے۔ جب ہمارے دلائل سے دونوں قولوں کی نفی ہوگئی یعنی اس آدمی کے قول کی بھی جو کہ قرابت داروں کے لیے ایک ہی حصہ قرار دیتا ہے یعنی اس کے نزدیک وہ صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حق ہے دوسروں کی طرف تجاوز نہ کرے گا اور دوسرا یہ قول جو غنائم اور فئی میں ان کا حصہ ان کی محتاجی اور حاجت کی وجہ سے قرار دیتا ہے۔ تو تیسرا قول خود ثابت ہوگیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار تھا کہ جس کو چاہیں اس کے ساتھ خاص کریں اور جس کو چاہیں محروم کریں۔ اس قول کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے۔ اس قول کے دلائل کا پہلے تذکرہ کیا جا چکا ہے البتہ چند اضافی دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔
جواباس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات تمہارے لیے ان لوگوں کے خلاف دلیل نہیں بن سکتی جو کہ قرابت داروں کے حصہ کو لازم قرار دیتے ہیں کیونکہ وہ اسے ان لوگوں کے لیے واجب قرار دیتا ہے جس کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ترجیح دینا مناسب سمجھیں۔
تو عین ممکن ہے کہ آپ نے اس کے ساتھ اپنے قرابت داروں میں اہل بدر کے یتیموں اور ان کمزوروں کو ترجیح دی ہو جو اپنی کمزوری کی وجہ سے اہل صفہ میں سے ہوگئے۔ جب ہمارے دلائل سے دونوں قولوں کی نفی ہوگئی یعنی اس آدمی کے قول کی بھی جو کہ قرابت داروں کے لیے ایک ہی حصہ قرار دیتا ہے یعنی یہ کہ وہ صرف بنو ہاشم اور بنو مطلب کا حق ہے دوسروں کی طرف تجاوز نہ کرے گا اور دوسرا اس کا قول جو غنائم اور فئی میں ان کا حصہ ان کی محتاجی اور حاجت کی وجہ سے قرار دیتا ہے۔ تو تیسرا قول خود ثابت ہوگیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار تھا کہ جس کو چاہیں اس کے ساتھ خاص کریں اور جس کو چاہیں محروم کریں۔
سوال : اس قول کی تمہارے پاس کیا دلیل ہے۔
جواب : اس قول کے دلائل کا پہلے تذکرہ کیا جا چکا ہے البتہ چند اضافی دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔