hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5313

.

الطحاوي

5313
Al Tahawi
۵۳۱۲ : وَلَقَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بِشْرٍ الْخَثْعَمِیِّ ، عَنِ ابْنِ حُمَیْدٍ ، قَالَ : وَقَعَتْ جَرَّۃٌ فِیْہَا وَرِقٌ مِنْ دَیْرِ حَرْبٍ فَأَتَیْتُ بِہَا عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ اقْسِمْہَا عَلَی خَمْسِہِ أَخْمَاسٍ فَخُذْ أَرْبَعَۃً ، وَہَاتِ خُمُسًا .فَلَمَّا أَدْبَرْت قَالَ : أَفِیْ نَاحِیَتِکَ مَسَاکِیْنُ فُقَرَائُ ؟ فَقُلْتُ :نَعَمْ ، قَالَ فَخُذْہٗ، فَاقْسِمْہُ بَیْنَہُمْ .أَفَلَا یَرَی أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَدْ أَمَرَہٗ أَنْ یَقْسِمَ الْخُمُسَ مِنَ الرِّکَازِ فِیْ فُقَرَائِ نَاحِیَتِہٖ، فَلَمْ یُوْجِبْ عَلَیْہِ دَفْعَ شَیْئٍ مِنْہُ اِلٰی أَحَدٍ مِنْ ذَوِیْ قُرْبَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَہٰذَا خِلَافُ مَا کَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، رَآہٗ فِیْ ذٰلِکَ .وَقَدْ
٥٣١٢: عبداللہ بن بشر خثعمی نے ابن حمید سے نقل کیا کہ میں نے ایک گھڑا پایا جس میں برباد گرجے کی چاندی تھی میں وہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں لایا تو آپ نے فرمایا اس کو پانچ حصوں میں تقسیم کرو اور چار خود لے لو اور پانچواں حصہ میرے پاس لے آؤ۔ (میں نے ایسا کردیا) جب میں پیٹھ پھیر کر چل دیا تو فرمایا کیا تمہاری طرف فقراء و مساکین ہیں میں نے کہا جی ہاں۔ تو آپ نے فرمایا اس کو لے جاؤ اور ان کے مابین تقسیم کر دو ۔ اس معترض کو دیکھنا چاہیے کہ حضرت علی (رض) گڑھے ہوئے مال کے خمس کو اس طرف کے فقراء میں تقسیم کا حکم فرمایا اور اس میں سے کوئی چیز اقارب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دینی لازم نہیں کی۔ چنانچہ حضرت علی (رض) کی رائے بھی ابن عباس (رض) کی رائے کے خلاف ہے۔