۵۳۱۱ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیْرٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبِیْ، قَالَ : سَمِعْت قَیْسًا یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ ہُرْمُزَ ، قَالَ : کَتَبَ نَجْدَۃُ اِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، یَسْأَلُہٗ عَنْ سَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی الَّذِیْنَ ذَکَرَہُمْ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَفَرَضَ لَہُمْ .فَکَتَبَ اِلَیْہِ وَأَنَا شَاہِدٌ کِتَابَہُ اِنَّہُمْ قَرَابَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَبَیْ ذٰلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا .قِیْلَ لَہٗ : اِنَّا لَمْ نَدْفَعْ أَنْ یَکُوْنَ قَدْ خُوْلِفْنَا فِیْمَا ذَہَبْنَا اِلَیْہِ مِمَّا ذَکَرْنَا ، وَلٰـکِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ ، رَأَی فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ سَہْمَ ذَوِی الْقُرْبَی ثَابِتٌ ، وَأَنَّہُمْ بَنُوْ ہَاشِمٍ ، فِیْ حَیَاۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَبَعْدَ وَفَاتِہٖ، وَقَدْ أَخْبَرَ أَنَّ قَوْمَہُ أَبَوْا ذٰلِکَ عَلَیْہِ، وَفِیْہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَمَنْ تَابَعَہُ مِنْہُمْ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .وَ عَلٰی ذٰلِکَ فَمِثْلُ مَنْ ذَکَرْنَا ، یَکُوْنُ قَوْلُہٗ مُعَارِضًا لِقَوْلِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا .
٥٣١١: یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس (رض) کی طرف لکھا ان سے ذوی القربیٰ کے حصہ کے متعلق پوچھا جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا اور حصہ مقرر کیا ہے حضرت ابن عباس (رض) نے ان کو لکھا اور میرے سامنے لکھا کہ ہم ہی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرابت دار ہیں لیکن ہماری قوم نے ہماری اس بات کو تسلیم نہیں کیا۔ ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ ہمارے مؤقف کی مخالفت نہیں کی گئی لیکن ابن عباس (رض) کا اس سلسلہ میں خیال یہ ہے کہ ذوی القربیٰ کا حق ثابت ہے اور وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ اور وفات کے بعد بھی اسی طرح ثابت ہے اور انھوں نے یہ بتلایا کہ ان کی قوم نے ان کی اس بات کا انکار کیا اور ان انکار کرنے والوں میں حضرت عمر (رض) ان کی اتباع کرنے والے لوگ ہیں چنانچہ اس کے مطابق جن کا ہم نے تذکرہ کیا ان کا قول عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کا معارضہ کرسکتا ہے۔
تخریج : مسلم فی الجہاد ١٤٠‘ دارمی فی السیر باب ٣٢‘ مسند احمد ١؍٢٤٨۔
جواب : ہم اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ ہمارے مؤقف کی مخالفت نہیں کی گئی لیکن ابن عباس (رض) کا اس سلسلہ میں خیال یہ ہے کہ ذوی القربیٰ کا حق ثابت ہے اور وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ اور وفات کے بعد بھی اسی طرح ثابت ہے اور انھوں نے یہ بتلایا کہ ان کی قوم نے ان کی اس بات کا انکار کیا اور ان انکار کرنے والوں میں حضرت عمر (رض) ان کی اتباع کرنے والے لوگ ہیں چنانچہ اس کے مطابق جن کا ہم نے تذکرہ کیا ان کا قول عبداللہ بن عباس (رض) کے قول کا معارضہ کرسکتا ہے۔