hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5325

.

الطحاوي

5325
Al Tahawi
۵۳۲۴ : ثُمَّ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا حَدَّثَنَا أَبُوْ غَسَّانَ مَالِکُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْبَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ ، قَالَ : ثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَہْدَلَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ وَائِلٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ مُعِیْرٍ السَّعْدِیُّ ، قَالَ : خَرَجْتُ أَسْتَبِقُ فَرَسًا لِیْ بِالشَّجَرِ ، فَمَرَرْتُ عَلَی مَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِیْ حَنِیْفَۃَ ، فَسَمِعْتُہُمْ یَشْہَدُوْنَ أَنَّ مُسَیْلِمَۃَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَرَجَعْتُ اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، فَذَکَرْتُ لَہٗ أَمْرَہُمْ ، فَبَعَثَ الشُّرَطَ فَأَخَذُوْھُمْ ، وَجِیْئَ بِہِمْ اِلَیْہِ، فَتَابُوْا وَرَجَعُوْا عَمَّا قَالُوْا ، وَقَالُوْا لَا نَعُوْدُ ، فَخَلَّیْ سَبِیْلَہُمْ .وَقَدِمَ رَجُلًا مِنْہُمْ یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ النَّوَّاحَۃِ ، فَضَرَبَ عُنُقَہُ فَقَالَ النَّاسُ : أَخَذْت قَوْمًا فِیْ أَمْرٍ وَاحِدٍ ، فَخَلَّیْتُ سَبِیْلَ بَعْضِہِمْ ، وَقَتَلْتُ بَعْضَہُمْ .فَقَالَ : کُنْتُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَجَائَ ہُ ابْنُ النَّوَّاحَۃِ وَرَجُلٌ مَعَہُ یُقَالُ لَہُ ابْنُ وَثَّالِ بْنِ حَجَرٍ ، وَافِدَیْنِ مِنْ عِنْدِ مُسَیْلِمَۃَ .فَقَالَ لَہُمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَشْہَدَانِ أَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہٖ؟ فَقَالَا : أَتَشْہَدُ أَنْتَ أَنَّ مُسَیْلِمَۃَ رَسُوْلُ اللّٰہٖ؟ فَقَالَ آمَنْتُ بِاَللّٰہِ وَبِرَسُوْلِہٖ ، لَوْ کُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا ، لَقَتَلْتُکُمَا فَلِذٰلِکَ قَتَلْتَ ہٰذَا .
٥٣٢٤: ابو وائل نے ابن معیر سعدی سے روایت کی ہے کہ میں مقام شجرہ میں اپنے گھوڑے کو دوڑ لگوانے کے لیے نکلا ‘ میرا گزر بنو حنیفہ کی ایک مسجد کے پاس سے ہوا میں نے سنا کہ وہ یہ گواہی دے رہے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔ میں اسی دم حضرت ابن مسعود (رض) کی طرف لوٹ کر آیا اور میں نے ان کا معاملہ ان کے سامنے رکھا انھوں نے پولیس بھیج کر ان کو گرفتار کرا لیا اور ان کو ابن مسعود (رض) کے سامنے لایا گیا (ترغیب دلانے پر) انھوں نے توبہ کر کے اپنی بات سے رجوع کیا اور انھوں نے وعدہ کیا کہ ہم دوبارہ یہ حرکت نہ کریں گے آپ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔ ان میں ایک آدمی آیا جس کو عبداللہ بن نواحہ کہتے تھے چنانچہ اس کی گردن اڑا دی گئی تو لوگ کہنے لگے تم نے ایک گروہ کو ایک ہی معاملے میں پکڑا اور ان میں سے بعض کو جانے دیا اور بعض کو قتل کردیا (یہ تفاوت کیوں ؟ ) تو آپ نے فرمایا میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ ابن النواحہ آپ کی خدمت میں آیا اور اس کے ساتھ ایک اور آدمی تھا جو ابن وثال بن حجر کے نام سے پکارا جاتا تھا یہ دونوں مسیلمہ کی طرف سے وفد بن کر آئے تھے۔ ان دونوں کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم میری رسالت کی گواہی دیتے ہو ؟ دونوں کہنے لگے کیا تم گواہی دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے ؟ آپ نے فرمایا میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہوں اگر میں وفد کو قتل کرتا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کردیتا تو اس شخص کو میں نے اسی وجہ سے قتل کیا ہے۔
تخریج : دارمی فی السیر باب ٦٠‘ مسند احمد ١؍٤٠٤۔