۵۳۲۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُکَیْرِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ رَافِعٍ حَدَّثَہٗ ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَخْبَرَہٗ أَنَّہٗ أَقْبَلَ بِکِتَابٍ مِنْ قُرَیْشٍ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قَالَ : فَلَمَّا رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُلْقِیَ فِیْ قَلْبِی الْاِسْلَامُ ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنِّیْ وَاللّٰہِ لَا أَرْجِعُ اِلَیْہِمْ أَبَدًا .رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَا اِنِّیْ لَا أَخِیسُ بِالْعَہْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرْدَ ، وَلٰـکِنْ ارْجِعْ ، فَاِنْ کَانَ فِیْ قَلْبِکَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِکَ الْآنَ فَارْجِعْ .قَالَ : فَرَجَعْتُ ثُمَّ أَقْبَلْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَسْلَمْتُ. قَالَ بُکَیْر : وَأَخْبَرَنِیْ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ کَانَ قِبْطِیًّا .
٥٣٢٥: حسن بن علی بن ابی رافع نے بیان کیا کہ مجھے ابو رافع نے بتلایا کہ میں قریش کی طرف سے ایک خط لے کر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام ڈال دیا گیا تو میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تو کبھی قریش کی طرف لوٹ کر نہ جاؤں گا۔ اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں عہد شکنی نہیں کرتا اور نہ قاصدوں کو روکتا ہوں لیکن تم لوٹ کر جاؤ۔ اگر تیرے دل میں وہی رہے جو تیرے دل میں اب ہے تو واپس لوٹ آؤ۔ ابو رافع کا بیان ہے کہ میں واپس لوٹ آیا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلیا۔
بکیر راوی کا بیان ہے کہ یہ ابو رافع قبطی (مصری) قوم سے تعلق رکھتے تھے۔
تخریج : ابو داؤد فی الجہاد باب ١٥١‘ مسند احمد ٦؍٨۔
لغات : اخبس۔ توڑنا۔ البرد۔ قاصد ‘ ڈاک۔