hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5329

.

الطحاوي

5329
Al Tahawi
۵۳۲۸ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ بُہْلُوْلٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ أَبِیْ ہِنْدٍ عَنْ أَبِیْ مُرَّۃَ مَوْلٰی عَقِیْلِ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ أَنَّ أُمَّ ہَانِئٍ بِنْتَ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ فَرَّ اِلَیَّ رَجُلَانِ مِنْ أَحْمَائِی مِنْ بَنِیْ مَخْزُوْمٍ وَکَانَتْ عِنْدَ ہُبَیْرَۃَ بْنِ أَبِیْ وَہْبٍ الْمَخْزُوْمِیِّ فَدَخَلَ عَلَیَّ أَخِیْ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ : لَأَقْتُلَنَّہُمَا .فَغَلَّقْتُ عَلَیْہِمَا بَیْتِی ثُمَّ جِئْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَی مَکَّۃَ فَوَجَدْتُہُ یَغْتَسِلُ فِیْ جَفْنَۃٍ اِنَّ فِیْہَا أَثَرَ الْعَجِیْنِ وَفَاطِمَۃُ ابْنَتُہُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَسْتُرُہُ بِثَوْبٍ .فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَ ثَوْبَہُ فَتَوَشَّحَ بِہٖ ثُمَّ صَلَّی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ الضُّحَی ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ ثُمَّ انْصَرَفَ اِلَیَّ فَقَالَ مَرْحَبًا وَأَہْلًا بِأُمِّ ہَانِئٍ مَا جَائَ بِکِ ؟ فَأَخْبَرْتُہٗ خَبَرَ الرَّجُلَیْنِ وَخَبَرَ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَالَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ .
٥٣٢٨: ابو مرہ عقیل بن ابی طالب کے غلام نے ام ہانی (رض) سے بیان کیا کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کی بالائی جانب میں نازل ہوئے تو میرے پاس میرے دو دیور جن کا تعلق بنو مخزوم سے تھا بھاگ کر آئے حضرت ام ہانی (رض) کی شادی ہبیرہ بن ابی وہب مخزومی سے ہوئی تھی۔ میرے بھائی حضرت علی (رض) میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں ان دونوں کو ضرور قتل کروں گا۔ میں نے (ان دونوں کو گھر میں داخل کر کے) باہر سے اپنے گھر کا دروازہ بند کردیا پھر میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں مکہ کے بالائی حصہ میں حاضر ہوئی میں نے آپ کو ایک ٹب میں غسل کرتے پایا جس میں آٹے کے اثرات تھے حضرت فاطمہ (رض) کپڑے سے غسل کے موقعہ پر آپ کو پردہ کئے ہوئے تھیں جب آپ غسل سے فارغ ہوئے تو آپ نے کپڑا لیا اور اس میں اپنے جسم مبارک کو لپیٹا پھر نماز چاشت کی آٹھ رکعت ادا فرمائی پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ام ہانی (رض) کو مرحبا اور خوش آمدید ہو۔ کیسے آمد ہوئی ہے ؟ میں نے آپ کو ان دو آدمیوں کی بات اور علی (رض) کی بات بتلائی تو آپ نے فرمایا جس کو تم نے پناہ دی اس کو ہم نے بھی پناہ دی جس کو تو نے امان دی ہم نے بھی امان دی۔
تخریج : ابو داؤد فی الجہاد باب ١٥٥‘ مسند احمد ٦‘ ٣٤١؍٣٤٣۔