hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5330

.

الطحاوي

5330
Al Tahawi
۵۳۲۹ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّہْرَانِیُّ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ أَبِیْ مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیْلٍ عَنْ فَاخِتَۃَ أُمِّ ہَانِئٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ ثُمَّ صَلَّی ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ فِیْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُخَالِفًا بَیْنَ طَرَفَیْہِ .قَالَتْ : فَقُلْتُ : اِنِّیْ أَجَرْتُ حَمَوَیَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَاِنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُفَلِّتُ عَلَیْہِمَا لِیَقْتُلَہُمَا .قَالَتْ : فَقَالَ مَا کَانَ لَہُ ذٰلِکَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ .أَفَلَا تَرَی أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَدْ أَرَادَ قَتْلَ الْمَخْزُوْمِیِّیْنَ لِمَکَّۃَ ؟ وَلَوْ کَانَا فِیْ أَمَانٍ لَمَا طَلَبَ ذٰلِکَ مِنْہُمَا فَأَمَّنَتْہُمَا أُمُّ ہَانِئٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا لِیَحْرُمَ بِذٰلِکَ دِمَاؤُہُمَا عَلَی عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَلَمْ تَقُلْ لَہُ مَا لَکَ اِلَی قَتْلِہِمَا مِنْ سَبِیْلٍ لِأَنَّہُمَا وَسَائِرَ أَہْلِ مَکَّۃَ فِیْ صُلْحٍ وَأَمَانٍ .ثُمَّ أَخْبَرَتْ أُمُّ ہَانِئٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِمَا کَانَ مِنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَبِمَا کَانَ مِنْ جِوَارِ ہٰذَیْنِ الْمَخْزُوْمِیِّیْنَ .فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ وَلَمْ یُعَنِّفْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فِیْ اِرَادَتِہِ قَتْلَہُمَا قَبْلَ جِوَارِ أُمِّ ہَانِئٍ اِیَّاہُمَا .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّہٗ لَوْلَا جِوَارُہَا لَصَحَّ قَتْلُہُمَا وَمُحَالٌ أَنْ یَکُوْنَ لَہُ قَتْلُہُمَا وَثَمَّۃَ أَمَانٌ قَائِمٌ وَصُلْحٌ مُتَقَدِّمٌ لَہُمَا وَہٰذَا دُخُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ فَأَیُّ شَیْئٍ أَبْیَنُ مِنْ ہٰذَا ؟ ثُمَّ قَدْ رَوَی أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ مَا ہُوَ أَبْیَنُ مِنْ ہٰذَا.
٥٣٢٩: ابن ابی الذئب نے سعید مقبری (رض) سے انھوں نے ابو مرہ مولیٰ عقیل سے انھوں نے ام ہانی (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں لپٹ کر جس کی دونوں اطراف ایک دوسرے کے خلاف ڈالنے والے تھے آپ نے آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی۔ ذرا غور فرمائیں کہ جناب علی (رض) نے مکہ کے دو مخزومیوں کو قتل کرنا چاہا اگر اہل مکہ امان میں تھے تو حضرت علی (رض) ان کے قتل کے درپے نہ ہوتے اور ام ہانی (رض) کو انھیں امان دینے کی کیا ضرورت تھی کہ جس سے علی (رض) پر ان کا قتل حرام ہوجائے۔
نمبر ٢ ام ہانی (رض) نے حضرت علی (رض) کو یہ نہیں کہا کہ تم ان کو قتل نہیں کرسکتے کیونکہ یہ اور تمام اہل مکہ صلح اور امان میں ہیں۔ پھر ام ہانی (رض) نے علی (رض) کے طرز عمل اور اپنے پناہ دینے کا تذکرہ کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی پناہ کو تو بحال رکھا مگر علی (رض) کو ام ہانی کی امان سے پہلے ان کے ارادہ قتل پر کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں فرمائی۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی اگر ام ہانی (رض) ان کو پناہ نہ دیتیں تو ان کا قتل درست تھا۔ اگر صلح قائم و دائم تھی تو پھر ان کا قتل محال و ناممکن تھا۔ اب اس سے زیادہ واضح اور کیا دلیل ہو کہ مکہ میں آپ کا داخلہ زور سے ہوا۔ پھر اس سے واضح تر روایت حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے۔
تخریج : مسلم فی الجہاد ٨٤؍٨٥‘ ٨٦‘ مسند احمد ٢؍٥٣٨۔