۵۳۳۵ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ ثَنَا یَحْیَیْ عَنْ أَبِیْ ذِئْبٍ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ الْمَقْبُرِیُّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا شُرَیْحٍ الْکَعْبِیَّ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ فَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاَللّٰہِ، وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یَسْفِکَنَّ فِیْہَا دَمًا وَلَا یَعْضِدَنَّ فِیْہَا شَجَرًا ، فَاِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ فَقَالَ قَدْ أُحِلَّتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِنَّ اللّٰہَ أَحَلَّہَا لِیْ وَلَمْ یُحِلَّہَا لِلنَّاسِ وَاِنَّمَا أَحَلَّہَا لِیْ سَاعَۃً .
٥٣٣٥: سعید مقبری کہتے ہیں کہ میں نے ابو شریح کعبی (رض) کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرام کیا لوگوں نے اس کو حرام نہیں کیا۔ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اس میں کوئی خون نہ بہائے اور نہ کسی درخت کو کاٹے ‘ اگر کوئی بتکلف رخصت رخصت بنانے کی کوشش کرے (تو اسے کہتا ہوں) کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اللہ کے رسول کے لیے حلال کیا اور وہ بھی دن کی ایک گھڑی کے لیے ‘ لوگوں کے لیے اس کو حلال نہیں کیا۔
تخریج : ابو داؤد فی الدیات باب ١٣‘ مسند احمد ٦؍٣٨٥۔