۵۳۳۴ : حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنِ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ أَنَّہٗ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ مَکَّۃَ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ السَّمَاوَاتِ ، وَالْأَرْضَ ، وَالشَّمْسَ ، وَالْقَمَرَ وَوَضَعَہَا بَیْنَ ہٰذَیْنِ الْأَخْشَبَیْنِ ثُمَّ لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِیْ وَلَمْ تَحِلَّ لِیْ اِلَّا سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ وَلَا یُخْتَلَی خَلَاہَا وَلَا یُعْضَدُ شَجَرُہَا وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہَا وَلَا یَرْفَعُ لُقَطَتُہَا اِلَّا مُنْشِدُہَا .فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اِلَّا الْاِذْخِرَ .
٥٣٣٤: عمرو بن عون بن اسماعیل بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو اس دن سے حرام قرار دیا جس دن کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چاند کو پیدا کیا اور مکہ کو ان دو اخشبین کے درمیان رکھا پھر یہ میرے علاوہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور میرے لیے بھی دن کے ایک خاص وقت میں حلال ہوا۔ اس کے گھاس کو نہ کاٹا جائے اور نہ اس کے درخت کو کاٹا جائے اور نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز کو اٹھایا جائے سوائے اس آدمی کے جس کی گم ہوئی ہو۔ عباس (رض) نے کہا مگر اذخر گھاس (آپ نے فرمایا مگر اذخر)
تخریج : بخاری فی الجنائز باب ٧٦‘ والعلم باب ٣٩‘ والصید باب ٩‘ المغازی باب ٥٣‘ مسلم فی الحج ٤٤٥؍٤٤٠‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٧٩؍٩٥‘ نسائی فی الحج باب ١١٠؍١٢٠‘ مسند احمد ١؍١١٩‘ ٣؍١٩٩۔