hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5343

.

الطحاوي

5343
Al Tahawi
۵۳۴۲ : حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ أَہْلِ مَکَّۃَ الْفِیْلَ وَقَالَ لَا یُلْتَقَطُ ضَالَّتُہَا اِلَّا لِمُنْشِدٍ .أَفَلَا یَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخْبَرَ بِہٖ فِیْ خُطْبَتِہِ ہٰذِہِ أَنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی أَحَلَّ لَہُ مَکَّۃَ سَاعَۃً مِنَ النَّہَارِ ثُمَّ عَادَتْ حَرَامًا اِلَیْ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ .فَلَوْ کَانَ لَا حَاجَۃَ بِہٖ اِلَی الْقِتَالِ فِیْ تِلْکَ السَّاعَۃِ اِذًا لَکَانَتْ فِیْ تِلْکَ السَّاعَۃِ ، وَفِیْمَا قَبْلَہَا وَفِیْمَا بَعْدَہَا عَلَی مَعْنًی وَاحِدٍ وَکَانَ حُکْمُہَا فِیْ تِلْکَ الْأَوْقَاتِ کُلِّہَا حُکْمًا وَاحِدًا .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : اِنَّمَا أُبِیْحَ لَہُ اِظْہَارُ السِّلَاحِ بِہَا لَا غَیْرُ .قِیْلَ لَہٗ : وَأَیُّ حَاجَۃٍ بِہٖ اِلَیْ اِظْہَارِ السِّلَاحِ اِذَا کَانَ لَا یَسْتَطِیْعُ أَنْ یُقَاتِلَ بِہٖ أَحَدًا فِیْہَا ؟ ہَذَا مُحَالٌ عِنْدَنَا وَلَا یَجُوْزُ اِظْہَارُ السِّلَاحِ بِہَا اِلَّا وَہُوَ مُبَاحٌ لَہُ الْقِتَالُ بِہٖ .وَقَدْ بَیَّنَ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ فِیْ حَدِیْثِہِ الَّذِیْ رَوَیْنَا عَنْہُ فِیْ ہٰذَا الْفَصْلِ عَنْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ہٰذَا الْمَعْنٰی فَقَالَ فِیْہِ وَاِنَّ اللّٰہَ اِنَّمَا أَحَلَّ لِی الْقِتَالَ فِیْہَا سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ .أَفَیَجُوْزُ لَہٗ أَنْ یُحِلَّ لَہُ قِتَالَ مَنْ ہُوَ فِیْ ہُدْنَۃٍ مِنْہُ وَأَمَانٍ ؟ ہَذَا لَا یَجُوْزُ .ثُمَّ قَدْ کَانَ دُخُوْلُہُ اِیَّاہَا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دُخُوْلَ مُحَارِبٍ لَا دُخُوْلَ آمِنٍ لِأَنَّہٗ دَخَلَہَا وَعَلٰی رَأْسِہِ الْمِغْفَرُ .
٥٣٤٢: حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی۔ البتہ انھوں نے یہ کہا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ سے ہاتھی والوں کو روک دیا اور یہ بھی کہا۔ اس کی گری پڑی چیز کو وہی اٹھاسکتا ہے جس کی گم ہوئی ہو۔ کیا معترض کو یہ معلوم نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اس خطبہ میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے مکہ کو دن کی ایک گھڑی میں حلال کیا پھر اس کی حرمت قیامت تک کے لیے لوٹ کر آئی اگر اس موقعہ پر قتال کی حاجت نہ ہوتی تو اس گھڑی اور اس سے پہلے اور اس کے بعد اوقات اس کا تو مفہوم ایک ہی تھا اور اس کا حکم ان تمام اوقات میں ایک ہی تھا۔ اگر کوئی معترض کہے کہ آپ کے لیے اس لیے مباح ہوا تاکہ اسلحہ کو ظاہر کرسکیں اس کے علاوہ کوئی مقصد نہ تھا۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اسلحہ کے اظہار کی آخر کیا ضرورت تھی جبکہ اس کے ساتھ کسی کو لڑنے کی اجازت ہی نہ تھی ؟ ہمارے نزدیک تو یہ بات ناممکن ہے اسلحہ کا اظہار بھی وہاں اس کو جائز ہے جس کے لیے قتال مباح ہو اور شروع باب میں اسی معنی کی روایت ابو سعید مقبری سے گزر چکی جس میں یہ مذکور ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں قتال کو دن کی ایک گھڑی میں حلال کیا ہے یہ کیوں کر جائز ہے کہ ادھر تو وہ لوگ امان اور صلح میں ہوں اور ادھر ان سے قتال کیا جائے یہ ہرگز جائز نہیں۔ آپ کا مکہ میں داخل ایک محارب کی طرح تھا امن کا داخلہ نہ تھا کیونکہ آپ کے سر مبارک پر مغفر (خود) رکھا ہوا تھا۔ جیسا اس روایت میں ہے۔
تخریج : بخاری فی العلم باب ٣٩‘ مسلم فی الحج ٤٤٧‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٨٩‘ مسند احمد ٢؍٢٣٨۔