hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5352

.

الطحاوي

5352
Al Tahawi
۵۳۵۱ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَنْصَارِیُّ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِیْ رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ : لَا یَدْخُلُ مَکَّۃَ تَاجِرٌ وَلَا طَالِبُ حَاجَۃٍ اِلَّا وَہُوَ مُحْرِمٌ .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا أَنَّ اِحْلَالَ اللّٰہِ اِیَّاہَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا کَانَ لِحَاجَتِہِ اِلَی الْقِتَالِ مِنْہَا لَا لِغَیْرِ ذٰلِکَ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آمَنَ النَّاسَ جَمِیْعًا اِلَّا سِتَّۃَ نَفَرٍ وَذَکَرَ فِیْ ذٰلِکَ
٥٣٥١: عطاء بن ابی رباح نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے کوئی تاجر اور طالب حاجت بھی مکہ میں بلا احرام داخل نہیں ہوسکتا۔ ان روایات سے یہ دلالت مل گئی کہ دخول مکہ کے لیے احرام ضروری ہے آپ کا بلا احرام داخلہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے مکہ کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حاجت قتال کی وجہ سے حلال کیا اور قتال کے لیے بلا احرام ہونا لازم ہے۔ فلا جدال) اگر کوئی معترض کہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام کو امن دیا مگر چھ آدمی مستثنیٰ تھے اور یہ روایت اس کی دلیل ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے دخول مکہ کے لیے احرام ضروری ہے آپ کا بلا احرام داخلہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے مکہ کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حاجت قتال کی وجہ سے حلال کیا اور قتال کے لیے بلا احرام ہونا لازم ہے۔ فلا جدال)
سوال : جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام کو امن دیا مگر چھ آدمی مستثنیٰ تھے اور یہ روایت اس کی دلیل ہے۔