۵۳۶۷ : فَاِذَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَدْ حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِیُّ ، قَالَ : ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ أَنَّ زَیْدًا ، أَبَا عَیَّاشٍ ، أَخْبَرَہٗ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْ بَیْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِیْئَۃً .فَکَانَ ہَذَا أَصْلَ الْحَدِیْثِ فِیْہِ ذِکْرُ النَّسِیْئَۃِ ، زَادَہُ یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَلٰی مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، فَہُوَ أَوْلَی .وَقَدْ رَوَیْ ہٰذَا الْحَدِیْثَ أَیْضًا ، غَیْرُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَزِیْدَ ، عَلَی مِثْلِ مَا رَوَاہٗ، یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ أَیْضًا .
٥٣٦٧: ابو عیاش زید نے سعد (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تر کھجور کی خشک کھجور کے بدلے خرید ادھار کی صورت میں منع کی ہے۔ پس اصل روایت میں نسیہ (ادھار) کا لفظ موجود ہے اور یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت مالک بن انس کی روایت سے جو اضافہ پایا جاتا ہے یہی اولیٰ ہے۔ اس روایت کو یحییٰ کے علاوہ عبداللہ بن یزید نے بھی اسی طرح روایت کیا جیسا کہ یحییٰ نے کی ہے۔ روایت عبداللہ بن یزید ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ١٨۔
پس اصل روایت میں نسیہ (ادھار) کا لفظ موجود ہے اور یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت مالک بن انس کی روایت سے جو اضافہ پایا جاتا ہے یہی اولیٰ ہے۔
تائیدی روایت : اس روایت کو یحییٰ کے علاوہ عبداللہ بن یزید نے بھی اسی طرح روایت کیا جیسا کہ یحییٰ نے کی ہے۔ روایت عبداللہ بن یزید ملاحظہ ہو۔