۵۴۱۶: وَحَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ مُوْسَی بْنِ وَرْدٍ ، أَنَّ سَعِیْدَ بْنَ الْمُسَیِّبِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ یَخْطُبُ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ کُنْتُ أَشْتَرِی التَّمْرَ ، فَأَبِیْعُہٗ بِرِبْحِ الْآصُعِ ، فَقَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اشْتَرَیْتَ فَاکْتَلْ ، وَاِذَا بِعْتُ فَکِلْ .فَکَانَ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا مُکَایَلَۃً ، فَبَاعَہُ قَبْلَ أَنْ یَکْتَالَہٗ، لَا یَجُوْزُ بَیْعُہٗ، فَاِذَا ابْتَاعَہٗ، فَاکْتَالَہٗ وَقَبَضَہٗ، ثُمَّ فَارَقَ بَیِّعَہٗ، فَکُلٌّ قَدْ أَجْمَعَ ، أَنَّہٗ لَا یَحْتَاجُ بَعْدَ الْفُرْقَۃِ اِلَیْ اِعَادَۃِ الْکَیْلِ وَخُوْلِفَ بَیْنَ اکْتِیَالِہِ اِیَّاہُ بَعْدَ الْبَیْعِ قَبْلَ التَّفَرُّقِ ، وَبَیْنَ اکْتِیَالِہِ اِیَّاہُ قَبْلَ الْبَیْعِ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّہٗ اِذَا اکْتَالَہُ اکْتِیَالًا ، یَحِلُّ لَہُ بَیْعُہٗ، فَقَدْ کَانَ ذٰلِکَ الِاکْتِیَالُ مِنْہٗ، وَہُوَ لَہُ مَالِکٌ .وَاِذَا اکْتَالَہُ اکْتِیَالًا ، لَا یَحِلُّ لَہُ بَیْعُہٗ، فَقَدْ کَالَہُ وَہُوَ غَیْرُ مَالِکٍ لَہٗ۔فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا ، وُقُوْعُ مِلْکِ الْمُشْتَرِی فِی الْبَیْعِ بِابْتِیَاعِہِ اِیَّاہٗ، قَبْلَ فُرْقَۃٍ تَکُوْنُ بَعْدَ ذٰلِکَ .فَہٰذَا وَجْہُ ہٰذَا الْبَابِ ، مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ .وَأَمَّا مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ ، فَاِنَّا قَدْ رَأَیْنَا الْأَمْوَالَ تُمْلَکُ بِعُقُوْدٍ ، فِیْ أَبْدَانٍ ، وَفِیْ أَمْوَالٍ ، وَفِیْ مَنَافِعَ ، وَفِیْ أَبْضَاعٍ .فَکَانَ مَا یُمْلَکُ مِنَ الْأَبْضَاعِ ، ہُوَ النِّکَاحُ ، فَکَانَ ذٰلِکَ یَتِمُّ بِالْعَقْدِ ، لَا بِفُرْقَۃٍ بَعْدَہٗ.وَکَانَ مَا یُمْلَکُ بِہٖ الْمَنَافِعُ ، ہُوَ الْاِجَارَاتِ ، فَکَانَ ذٰلِکَ مَمْلُوْکًا بِالْعَقْدِ ، لَا بِالْفُرْقَۃِ بَعْدَ الْعَقْدِ .فَالنَّظْرُ عَلٰی ذٰلِکَ ، أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ الْأَمْوَالُ الْمَمْلُوْکَۃُ ، بِسَائِرِ الْعُقُوْدِ ، مِنَ الْبُیُوْعِ وَغَیْرِہِمَا ، تَکُوْنُ مَمْلُوْکَۃً بِالْأَقْوَالِ ، لَا بِالْفُرْقَۃِ بَعْدَہَا قِیَاسًا وَنَظَرًا ، عَلٰی مَا ذَکَرْنَا مِنْ ذٰلِکَ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٥٤١٦: سعید بن مسیب نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے سنا کہ وہ منبر پر فرما رہے تھے۔ میں کھجور خرید کر کچھ صاع کے نفع پر فروخت کرتا تھا تو مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب خریداری کرو تو کیل کرلیا کرو اور جب فروخت کرو تو کیل کرلیا کرو۔ پس جو شخص کیل (ماپ کر) کر کے غلہ خرید لے تو ماپنے سے پہلے اگر فروخت کردیا تو یہ جائز نہیں۔ لیکن جب خریدنے کے بعد ماپ لیا اور قبضہ کرلیا اور اس کے بعد مالک سے جدا ہوا تو اس پر سب کا اجماع ہے کہ اس کو فرقت کے بعد دوبارہ ماپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ سودا ہوجانے کے بعد اور جدا ہونے سے پہلے ماپنے اور سودے سے پہلے ماپنے کے متعلق اختلاف ہے تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ اگر وہ اس کا ایسا ماپ کرتا ہے جس کے بعد اس کی فروخت جائز ہے تو یہ ماپنا اس کی طرف سے ہوگا اور وہ اس کا مالک ہوگا اور اگر وہ ایسا کیل ہے جس کے بعد اس کو فروخت کرنا جائز نہیں تو اس نے گویا ایسی حالت میں کیل کیا ہے کہ وہ اس کا مالک نہیں ہے۔ اس سابقہ تفصیل سے واضح ہوا کہ خریدار کو جدا ہونے سے پہلے ہی صرف سودا کرلینے سے ملک حاصل ہوجاتی ہے۔ روایات کو سامنے رکھنے سے تو اس باب کا یہی مطلب ہوگا۔ اب طریق نظر سے اس کی وضاحت کی جاتی ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ عقود کے ذریعہ اجسام ‘ اموال اور منافع بضع پر ملکیت حاصل ہوتی ہے اور یہ عقد سے مکمل ہوجاتے ہیں اس کے بعد جدا ہونے کے ذریعہ سے نہیں اور اجارات کے ذریعہ ہی منافع کا مالک بنتا ہے جدا ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی پس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ بیع وغیرہ کے ذریعہ جن اموال کی ملکیت حاصل ہوتی ہے ان کا بھی یہی حکم ہے عقد کے بعد فرقت پر موقوف نہیں۔ قیاس و غور و فکر سے ہماری اس تقریر کی تائید ہوتی ہے۔ یہی حضرت امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٥١‘ مسند احمد ١‘ ٦٢؍٧٥۔