۵۴۱۷: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، وَخِلَاسُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اشْتَرَی شَاۃً مُصَرَّاۃً ، أَوْ لِقْحَۃً مُصَرَّاۃً ، فَحَلَبَہَا ، فَہُوَ بِخَیْرِ النَّظِیْرَیْنِ ، بَیْنَ أَنْ یَخْتَارَہَا ، وَبَیْنَ أَنْ یَرُدَّہَا ، وَاِنَائً مِنْ طَعَامٍ .
٥٤١٧: ابن سیرین اور خلاس بن عمرو نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے ایسی اونٹنی یا بکری خریدی جو مصراۃ تھی (جس کے تھنوں میں خریدار کو دھوکا دینے کے لیے دودھ روکا گیا ہو) تو اس کو دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا تو اس کو رکھ لے یا اسے واپس کر دے اور اس کے ساتھ (دودھ کے بدلے) غلہ سے بھرا ہوا برتن (جس میں دودھ دوہتے ہیں) بھی دے۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٦٥‘ مسلم فی البیوع ٢٣؍٢٦‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٤٦‘ ترمذی فی البیوع باب ٢٩‘ نسائی فی البیوع باب ١٤‘ ابن ماجہ فی التجارات باب ٤٢‘ دارمی فی البیوع باب ١٩‘ مسند احمد ٢‘ ٢٤٨؍٤٨١‘ ٤؍٣١٤۔