۵۴۵۹: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُکَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَۃَ ، عَنْ خَالِدٍ أَنَّہٗ سَمِعَ عَطَائَ بْنَ أَبِیْ رَبَاحٍ یُسْأَلُ عَنِ الرَّجُلِ یَبِیْعُ ثَمَرَۃَ أَرْضِہٖ، رُطَبًا کَانَ أَوْ عِنَبًا یُسْلِفُ فِیْہَا قَبْلَ أَنْ تَطِیْبَ ؟ فَقَالَ : لَا یَصْلُحُ ، اِنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ بَاعَ ثَمَرَۃَ أَرْضٍ لَہُ ثَلَاثَ سِنِیْنَ، فَسَمِعَ بِذٰلِکَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیُّ فَخَرَجَ اِلَی الْمَسْجِدِ .فَقَالَ فِی النَّاسِ : مَنَعَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ نَبِیْعَ الثَّمَرَۃَ حَتّٰی تَطِیْبَ .
٥٤٥٩: خالد نے عطاء سے سنا ان سے پوچھا گیا کہ جو آدمی اپنی زمین کا پھل تر یا خشک کھجور کی صورت میں عمدہ ہونے سے پہلے بیچتا ہے تو انھوں نے فرمایا یہ اس کے لائق نہیں۔ ابن الزبیر نے اپنی ایک زمین کا پھل تین سال کے لیے فروخت کردیا جب یہ بات جابر بن عبداللہ انصاری (رض) نے سنی تو مسجد کی طرف نکل کر گئے اور لوگوں میں اعلان کردیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں پھلوں کو عمدہ بن جانے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔
تخریج : بخاری فی البیوع باب ٨٣‘ مسلم فی البیوع ٥٣؍٨٦‘ مسند احمد ٣؍٣١٢۔