hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5461

.

الطحاوي

5461
Al Tahawi
۵۴۶۰: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ السَّلَفِ فِی الثَّمَرِ ، فَقَالَ : نَہٰی عُمَرُ عَنْ بَیْعِ الثَّمَرِ ، حَتّٰی یَصْلُحَ .فَدَلَّتْ ہٰذِہِ الْآثَارُ الَّتِیْ ذٰکَرْنَاہَا ، عَلٰی أَنَّ الثِّمَارَ الْمَنْہِیَّ عَنْ بَیْعِہَا قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِہَا ، مَا ہِیَ ؟ فَاِنَّہَا الْمَبِیْعَۃُ قَبْلَ کَوْنِہَا الْمُسْلَفَ عَلَیْہَا .فَنَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذٰلِکَ حَتّٰی یَکُوْنَ وَیُؤْمَنَ عَلَیْہَا الْعَاہَۃُ ، فَحِیْنَئِذٍ یَجُوْزُ السَّلَمُ فِیْہَا .أَفَلَا تَرٰی أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا لَمَّا سَأَلَہٗ أَبُو الْبَخْتَرِیِّ ، عَنِ السَّلَمِ فِی النَّخْلِ ، کَانَ جَوَابُہٗ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا ذَکَرَ فِیْ حَدِیْثِہٖ، عَنِ النَّہْیِ عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ ، حَتّٰی تُطْعَمَ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ النَّہْیَ ، اِنَّمَا وَقَعَ فِی الْآثَارِ الَّتِی قَدَّمْنَا ذِکْرَہَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، عَلٰی بَیْعِ الثِّمَارِ ، قَبْلَ أَنْ تَکُوْنَ ثِمَارًا .أَلَا تَرَیْ اِلَی قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَأَیْتَ اِنْ مَنَعَ اللّٰہُ الثَّمَرَۃَ ، بِمَ یَأْخُذُ أَحَدُکُمْ مَالَ أَخِیْہٖ؟ .فَلَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ اِلَّا عَلَی الْمَنْعِ ، مِنْ ثَمَرَۃٍ لَمْ یَکُنْ لَہٗ أَنْ تَکُوْنَ .وَاِنَّمَا الَّذِیْ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، ہُوَ النَّہْیُ عَنِ السَّلَمِ فِی الثِّمَارِ فِیْ غَیْرِ حِیْنِہَا ، فَہٰذِہِ الْآثَارُ تَدُلُّ عَلَی النَّہْیِ عَنْ ذٰلِکَ .فَأَمَّا بَیْعُ الثِّمَارِ فِیْ أَشْجَارِہَا ، بَعْدَمَا ظَہَرَتْ ، فَاِنَّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا جَائِزٌ صَحِیْحٌ .وَالدَّلِیْلُ عَلٰی ذٰلِکَ ، مَا جَائَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ.
٥٤٦٠: ابو البختری سے مروی ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) سے پھلوں میں بیع سلم کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ حضرت عمر (رض) نے بر و صلاح سے قبل پھلوں کی بیع سے منع کیا ہے۔ حاصل آثار : ان آثار سے معلوم ہوتا ہے جن پھلوں کی فروخت سے منانعت کی گئی ہے وہ وہی ہیں جن میں صلاحیت ظاہر نہیں ہوئی اس کی حقیقت کیا ہے ؟ تو یہ وہ بیع ہے جو ان کے وجود میں آنے سے پہلے کی جائے۔ اس سے اس وقت تک کے لیے منع فرمایا یہاں تک کہ آفت سے محفوظ ہوجائیں جب محفوظ ہو جائیں تو ان میں بیع سلم جائز ہے۔ ذرا غور فرمائیں کہ جب ابوالبختری ابن عمر (رض) سے دریافت کیا کہ کیا کھجور میں بیع سلم درست ہے تو ان کا جواب یہ تھا کہ پھلوں کی بیع اس وقت درست ہے جب وہ کھائے جانے کے قابل ہوجائیں۔ آثار میں جس ممانعت کا تذکرہ ہے وہ پھلوں کی بیع پھل بننے سے پہلے کی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ملاحظہ ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ پھلوں کو روک دے تو تم میں سے کون ہے پھر جو اپنے بھائی کا مال لے سکے گا۔ تو اب اس سے مراد ان پھلوں کی بیع سے ممانعت ہے جو ابھی تک پھل نہیں بنے۔ نیز ان آثار میں جس بیع سلم سے روکا گیا ہے وہ پھلوں کی بےوقت بیع سلم ہے۔ باقی درختوں پر ان پھلوں کی بیع جو ظاہر ہوچکے ہوں ہمارے ہاں جائز ہے۔ اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔