۵۴۸۹: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ ، بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ ، قَالَ : ثَنَا حُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَعْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُمَرُ بْنُ أَبِیْ سَلْمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَۃِ ، وَالْمُزَابَنَۃِ .قَالَ وَالْمُحَاقَلَۃُ : الشَّرْطُ فِی الزَّرْعِ ، وَالْمُزَابَنَۃُ : التَّمْرُ بِالثَّمَرِ ، فِی النَّخْلِ .فَہٰذِہِ الْآثَارُ ، قَدْ تَوَاتَرَتْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالنَّہْیِ عَنْ بَیْعِ الْکَیْلِ مِنَ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ فِیْ رُئُوْسِ النَّخْلِ .فَاِنْ حُمِلَ تَأْوِیْلُ الْعَرَایَا ، عَلٰی مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، کَانَ النَّہْیُ عَلَی عُمُوْمِہٖ، وَلَمْ یَبْطُلْ مِنْہُ شَیْء ٌ .وَاِنْ حُمِلَ عَلٰی مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ مَالِکٌ ، خَرَجَ مِنْہُ مَا تَأَوَّلَ ہُوَ الْعَرِیَّۃَ عَلَیْہِ، فَلَا یَنْبَغِی أَنْ یَخْرُجَ شَیْء ٌ مِنْ حَدِیْثٍ مُتَّفَقٍ عَلَیْہِ اِلَّا بِحَدِیْثٍ مُتَّفَقٍ عَلَیہ۔عَلَی تَأْوِیْلِہِ ، أَوْ بِدَلَالَۃٍ أُخْرَی مُتَّفَقٍ عَلَیْہَا .وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِی غَیْرِ ہَذَا الْمَوْضِعِ ، فِی النَّہْیِ عَنْ بَیْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ .فَاِِنْ حَمَلْنَا مَعْنَی الْعَرِیَّۃِ .عَلَی مَا قَالَ مَالِکٌ ، ضَادَّ مَا رُوِیَ فِیْہَا .مَا رُوِیَ فِی النَّہْیِ عَنْ بَیْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ .وَاِِنْ حَمَلْنَاہُ عَلَی مَا قَالَ أَبُو حَنِیْفَۃَ ، اتَّفَقَتْ مَعَانِیہَا ، وَلَمْ تَتَضَادَّ .وَالْأَوْلَی بِنَا ، فِی صَرْفِ وُجُوْہِ الْآثَارِ وَمَعَانِیہَا ، صَرْفُہَا اِلَی مَا لَیْسَ فِیْہِ تَضَادٌّ ، وَلَا مُعَارَضَۃٌ لِسُنَّۃٍ بِسُنَّۃٍ .فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا فِی مَعْنَی الْعَرَایَا ، مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ أَبُو حَنِیْفَۃَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاللّٰہُ وَلِیُّ التَّوْفِیقِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا أَنَّہٗ قَالَ : خَفِّفُوْا فِی الصَّدَقَاتِ ، فَاِِنَّ فِی الْمَالِ الْعَرِیَّۃَ وَالْوَصِیَّۃَ .
٥٤٨٩: عمر بن ابی سلمہ (رض) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیع محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا محاقلہ : کھیتی میں شرط رکھنے اور المزابنہ کھجور کے اوپر تازہ پھل خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنا۔ یہ تواتر سے آنے والی روایات ہیں جن درختوں پر موجود پھل کو اتری ہوئی خشک کھجور یا پھل کے بدلے فروخت کی ممانعت کی گئی ہے اگر عرایا کا وہ مفہوم لیا جائے جو امام ابوحنیفہ (رح) نے لیا ہے تو نہی اپنے عموم پر رہے گی اور اس میں سے کچھ بھی باطل نہ ہوگا اور اگر اس کی تفسیر امام مالک (رح) والی اختیار کی جائے تو ممانعت سے ان کا بیان کردہ عریہ تو خرج ہوجائے گا اور کسی متفق علیہ والی روایت سے کسی چیز کو اسی صورت میں خارج کیا جاتا ہے جبکہ اس کے مقابل حدیث کے مفہوم پر اتفاق ہو یا کوئی اور دلالت موجود ہو جس پر اتفاق ہو۔ حالانکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تر کھجوروں کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کی ممانعت کے سلسلہ میں اور روایات بھی وارد ہیں اگر امام مالک (رح) والا معنی لیا جائے تو تر کھجوروں کو خشک کے بدلے فروخت کی ممانعت سے تضاد لازم آئے گا اور اگر امام ابوحنیفہ (رح) والا معنی لیا جائے اور ان کے قول پر محمول کیا جائے تو ان کے معانی متفق رہیں گے اور تضاد نہ ہوگا اور زیادہ بہتر یہی ہوتا ہے کہ روایات کو ایسی بات کی طرف پھیرا جائے جس میں سنت کا سنت سے تضاد نہ ہو اور ان میں معارضہ نہ پایا جائے۔ عرایا کے اس مفہوم سے امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ثابت ہوا واللہ التوفیق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ صدقات میں نرمی برتا کرو اس لیے کہ مال میں عریہ اور وصیت بھی ہے یہ بات مکحول نے نقل کی ہے۔
عرایا کے اس مفہوم سے امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ثابت ہوا واللہ التوفیق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ صدقات میں نرمی برتا کرو اس لیے کہ مال میں عریہ اور وصیت بھی ہے یہ بات مکحول نے نقل کی ہے۔