۵۴۹۰: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ أَبُوْبَکْرَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْت قَیْسَ بْنَ سَعْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ مَکْحُوْلٍ الشَّامِیِّ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الْعَرِیَّۃَ ، اِنَّمَا ہِیَ شَیْء ٌ یُمَلِّکُہُ أَرْبَابُ الْأَمْوَالِ قَوْمًا فِیْ حَیَاتِہِمْ ، کَمَا یُمَلِّکُوْنَ الْوَصَایَا بَعْدَ وَفَاتِہِمْ .وَحُجَّۃٌ أُخْرَی فِیْ أَنَّ مَعْنَی الْعَرِیَّۃِ ، کَمَا قَالَ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ رَحِمَہُ اللّٰہٗ، لَا کَمَا قَالَ مُخَالِفُہُ.
٥٤٩٠: مکحول شامی نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نقل کیا یا کہ صدقات میں تخفیف کرو کیونکہ اس میں وصیت اور عریہ بھی ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ عریہ وہ چیز ہے جس کو مالدار اپنی زندگی میں غرباء کو مالک بناتے ہیں جس طرح وصیت کے ذریعہ محروم لوگوں کو اپنے مرجانے کے بعد مالک بناتے ہیں عریہ کا امام ابوحنیفہ (رح) والا معنی درست ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے۔