hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5492

.

الطحاوي

5492
Al Tahawi
۵۴۹۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ ، عَنْ أَیُّوْبَ وَعُبَیْدِ اللّٰہِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَی الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ عَنِ الْمُزَابَنَۃِ .قَالَ : وَقَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَخَّصَ فِی الْعَرَایَا ، فِی النَّخْلَۃِ وَالنَّخْلَتَیْنِ ، تُوْہَبَانِ لِلرَّجُلِ ، فَیَبِیْعُہُمَا بِخَرْصِہِمَا تَمْرًا .فَہٰذَا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَہُوَ أَحَدُ مَنْ رَوٰی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرُّخْصَۃَ فِی الْعَرِیَّۃِ ، فَقَدْ أَخْبَرَ أَنَّہَا الْہِبَۃُ ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ .
٥٤٩١: نافع نے ابن عمر (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دو درختوں کے عریہ کی اجازت دی ہے کہ وہ کسی آدمی کو بطور ہبہ دے دیئے جائیں۔ پھر وہ آدمی ان کو اندازے کے ساتھ خشک کھجوروں کے بدلے فروخت کرے لیجئے یہ حضرت زید بن ثابت (رض) جو عریہ کی اجازت نقل کرنے والے راویوں میں سے ہیں انھوں نے عرایا کو صاف لفظ میں ہبہ قرار دیا۔ واللہ اعلم۔
امام طحاوی (رح) نے جواز عریہ کا قول تو سب سے نقل کیا مگر اختلاف کی وجہ عریہ کی تفسیر میں اختلاف کو قرار دیا اور انھوں نے امام ابوحنیفہ (رح) کی تفسیر کو سب سے بہتر قرار دے کر مضبوط دلائل سے اس کا ہبہ ہونا ثابت کردیا جس سے روایات کا تضاد بھی جاتا رہا۔ جزاہ اللہ عنا وعن الامہ۔