۵۵۱۳: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ حِزَامِ بْنِ حَکِیْمٍ ، عَنْ حَکِیْمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : کُنْتُ أَشْتَرِیْ طَعَامًا ، فَأَرْبَحُ فِیْہَا قَبْلَ أَنْ أَقْبِضَہُ فَسَأَلْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : لَا تَبِعْہُ حَتّٰی تَقْبِضَہُ .قَالَ : أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ مَنْ اشْتَرَی طَعَامًا مَا ، لَمْ یَجُزْ لَہُ بَیْعُہُ حَتّٰی یَقْبِضَہٗ، وَمَنْ اشْتَرَی غَیْرَ الطَّعَامِ ، حَلَّ لَہُ بَیْعُہُ وَاِنْ لَمْ یَقْبِضْہٗ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَقَالُوْا : لَمَّا قَصَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالنَّہْیِ اِلَی الطَّعَامِ ، دَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ حُکْمَ غَیْرِ الطَّعَامِ فِیْ ذٰلِکَ ، بِخِلَافِ حُکْمِ الطَّعَامِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا ذٰلِکَ النَّہْیُ قَدْ وَقَعَ عَلَی الطَّعَامِ وَغَیْرِ الطَّعَامِ ، وَاِنْ کَانَ الْمَذْکُوْرُ فِی الْآثَارِ الَّتِی ذُکِرَ ذٰلِکَ النَّہْیُ فِیْہَا ہُوَ الطَّعَامُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٥٥١٣: عطاء نے حکیم بن حزام (رض) سے روایت کی ہے کہ میں غلہ خریدتا تھا میں قبضہ سے پہلے اس میں نفع لیتا تھا میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تو فرمایا۔ قبضہ سے پہلے اس کو فروخت نہ کرو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جو غلہ بھی خریدا جائے قبضہ سے پہلے اس کی فروخت درست نہیں اور غلہ کے علاوہ اشیاء کی فروخت قبضہ سے پہلے بھی درست ہے جیسا کہ ان آثار بالا سے معلوم ہوتا ہے۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب غلے کی ممانعت کا قصد کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ غیر طعام کا حال اس سے مختلف ہے۔ اس ممانعت کا تعلق طعام وغیر طعام ہر دو سے ہے۔ اگرچہ آثار میں طعام کا خصوصاً تذکرہ ہے اس کی دلیل یہ روایات ہیں۔
تخریج : نسائی فی البیوع باب ٥٥۔