hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5515

.

الطحاوي

5515
Al Tahawi
۵۵۱۴: بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَہْبِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ عُبَیْدِ بْنِ حُنَیْنٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ابْتَعْتُ زَیْتًا بِالسُّوْقِ ، فَلَمَّا اسْتَوْجَبْتُہٗ، لَقِیَنِیْ رَجُلٌ فَأَعْطَانِیْ بِہٖ رِبْحًا حَسَنًا ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلٰی یَدِہِ فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِیْ بِذِرَاعَیَّ ، فَالْتَفَتُّ اِلَیْہِ، فَاِذَا ہُوَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالَ لَا تَبِعْہُ حَیْثُ ابْتَعْتَہُ حَتّٰی تَحُوْزَہُ اِلٰی رَحْلِکَ ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہَانَا أَنْ نَبِیْعَ السِّلَعَ حَیْثُ تُبْتَاعُ ، حَتّٰی تَحُوْزَہَا التُّجَّارُ اِلَیْ رِحَالِہِمْ .فَلَمَّا أَخْبَرَ زَیْدٌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ الزَّیْتَ قَدْ دَخَلَ فِیْمَا کَانَ نَہٰی عَنْ بَیْعِہِ قَبْلَ قَبْضِہٖ، وَہُوَ غَیْرُ الطَّعَامِ الَّذِیْ کَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَلِمَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ النَّہْیَ عَنْ بَیْعِہِ بَعْدَ ابْتِیَاعِہِ حَتَّی یُقْبَضَ ، وَعَمِلَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَلٰی ذٰلِکَ ، فَأَرَادَ بَیْعَ الزَّیْتِ قَبْلَ قَبْضِہٖ، لِأَنَّہٗ لَیْسَ مِنِ الطَّعَامِ ، فَقَبِلَ ذٰلِکَ مِنْہُ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، وَلَمْ یَکُنْ کَانَ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِمَّا قَدْ ذَکَرْنَاہُ عَنْہُ فِیْ أَوَّلِ ہٰذَا الْبَابِ ، مِنْ قَصْدِہِ اِلَی الطَّعَامِ ، بِمَانِعِ أَنْ یَکُوْنَ غَیْرُ الطَّعَامِ فِیْ ذٰلِکَ بِخِلَافِ الطَّعَامِ ، ثُمَّ أَکَّدَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ فَقَالَ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَانَا عَنِ ابْتِیَاعِ السِّلَعِ حَیْثُ تُبْتَاعُ ، حَتّٰی تَحُوْزَہَا التُّجَّارُ اِلَیْ رِحَالِہِمْ فَجَمَعَ فِیْ ذٰلِکَ کُلَّ السِّلَعِ ، وَفِیْہَا غَیْرُ الطَّعَامِ ، فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّہٗ لَا یَجُوْزُ بَیْعُ شَیْئٍ اُبْتِیْعَ اِلَّا بَعْدَ قَبْضِ مُبْتَاعِہِ اِیَّاہٗ، طَعَامًا کَانَ أَوْ غَیْرَ الطَّعَامِ .وَقَدْ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، وَقَدْ عَلِمَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَصْدَہٗ بِالنَّہْیِ عَنْ بَیْعِ مَا لَمْ یُقْبَضْ اِلَی الطَّعَامِ .
٥٥١٤: عبید بن حنین نے ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے بازار سے زیتون کا تیل خریدا جب میں نے سودا کرلیا تو مجھے ایک اچھا بھلا نفع دے رہا تھا میں نے اس کے ساتھ بیع کو مکمل کرنا چاہا تو میرے پیچھے ایک آدمی نے میرے بازو کو پکڑا۔ میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو وہ زید بن ثابت (رض) تھے وہ کہنے لگے اس کو مت فروخت کرو جہاں تم نے خریدا ہے جب تک کہ تم اپنے کجاوے پر نہ لے جاؤ اس لیے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا کہ سامان جہاں سے خریدا جائے وہیں اس کی بیع کا معاملہ کیا جائے جب تک کہ تجار اس کو اپنے کجاوے کی طرف منتقل نہ کرلیں۔ جب حضرت زید بن ثابت (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہوئے بتلا دیا کہ قبضہ سے پہلے فروخت کی ممانعت میں زیتون بھی شامل ہے اور زیتون تو غلہ سے غیر ہے جس کے متعلق حضرت ابن عمر (رض) کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علم حاصل ہوا کہ خریدنے کے بعد اس کو قبضہ کرنے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے اور ابن عمر (رض) نے اس پر عمل کیا چنانچہ ابن عمر (رض) نے زیتون کو بیچنے کا ارادہ فرمایا کیونکہ وہ غلہ نہیں تو ابن عمر (رض) نے آپ سے اس بات کو قبول کیا اور انھوں نے ان روایات کے ضمن میں جن کو باب کے شروع میں ذکر کیا گیا ہے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلہ کا ارادہ کرنے کے سلسلے میں کوئی ایسی بات نہیں سنی جو اس سلسلے میں غلہ کے علاوہ کے لیے مخالف حکم میں رکاوٹ بنتی ہو۔ پھر حضرت زید بن ثابت (رض) نے اس بات کو اور پختہ کردیا انھوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں سامان کے اسی جگہ فروخت کرنے سے منع فرماتے تھے جہاں سے وہ خریدا گیا یہاں تک کہ تاجر حضرات اسے اپنے گھروں میں لے جائیں تو آپ نے اس میں ہر قسم کے سامان کا تذکرہ فرمایا۔ جس میں غلہ کے علاوہ اشیاء بھی داخل ہیں۔ تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ جس چیز کو خریدا جائے وہ غلہ ہو یا کوئی دوسری چیز قبضہ کے بغیر اسے فروخت کرنا جائز نہیں اور حضرت ابن عباس (رض) نے بھی یہی بات فرمائی حالانکہ وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ معلوم کرچکے تھے کہ آپ نے قبضہ سے پہلے فروخت کرنے کی ممانعت سے غلہ کا ارادہ فرمایا۔ ابن عباس (رض) کی روایت ملاحظہ ہو۔
تخریج : ابو داؤد فی البیوع باب ٦٥‘ مسند احمد ٥؍١٩١۔
لغات : اضرب علی یدہ۔ یہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا تکمیل بیع کی علامت تھی۔ الحوز۔ جمع کرنا۔ الرحل۔ کجاوہ۔ رہائشگاہ۔