hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5527

.

الطحاوي

5527
Al Tahawi
۵۵۲۶: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ : جَائَ تْنِیْ بَرِیْرَۃُ فَقَالَتْ : اِنِّیْ کَاتَبْتُ أَہْلِیْ عَلَی تِسْعِ أَوَاقٍ ، فِیْ کُلِّ عَامٍ أُوْقِیَّۃٌ ، فَأَعِیْنِیْنِی .فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ : اِنْ أَحَبَّ أَہْلُک أَنْ أَعُدَّہَا لَہُمْ ، عَدَدْتُہَا لَہُمْ ، وَیَکُوْنُ وَلَاؤُک لِی ، فَعَلْتَ .فَذَہَبَتْ بَرِیْرَۃُ اِلٰی أَہْلِہَا ، فَقَالَتْ لَہُمْ ذٰلِکَ ، فَأَبَوْا عَلَیْہَا .فَجَائَ تْ مِنْ عِنْدِ أَہْلِہَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَقَالَتْ : اِنِّیْ قَدْ عَرَضْتُ ذٰلِکَ عَلَیْہِمْ فَأَبَوْا اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ الْوَلَائُ لَہُمْ .فَسَمِعَ بِذٰلِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہَا ، فَأَخْبَرَتْہُ عَائِشَۃُ فَقَالَ خُذِیْہَا وَاشْتَرِطِیْ ، فَاِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ فَفَعَلَتْ عَائِشَۃُ ، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی النَّاسِ ، فَذَکَرَ مِثْلَ مَا فِیْ حَدِیْثِ الزُّہْرِیِّ .
٥٥٢٦: ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ بریرہ میرے ہاں آ کر کہنے لگیں میں نے اپنے مالکوں سے ٩ اوقیہ چاندی پر مکاتبت کرلی ہے اور ہر سال ایک اوقیہ ادا کرنا ہے تم میری مدد کرو۔ تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اگر تمہارے مالک پسند کریں کہ میں ان کو گن دوں تو میں گن دوں گی اور ولاء میرے لیے ہوگی بریرہ اپنے مالکوں کے ہاں گئیں اور ان کو یہ بات بتلائی تو انھوں نے انکار کردیا۔ تو وہ مالکان کے ہاں سے ہو کر آئیں اس وقت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف فرما تھے وہ کہنے لگیں میں نے ان کو وہ بات پیش کی مگر انھوں نے انکار کردیا اور ولاء کی شرط لگائی تو اس بات کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا اور اس سے دریافت کیا تو عائشہ (رض) نے بات بتلائی تو آپ نے فرمایا تو اس کو خرید لو اور شرط لگا لو ولاء تو معتق کو ملتا ہے۔ تو عائشہ (رض) نے اسی طرح کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں میں کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا پھر زہری کی طرح روایت نقل کی ہے۔