hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5528

.

الطحاوي

5528
Al Tahawi
۵۵۲۷: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَالِکٌ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مِثْلُ مَا فِیْ حَدِیْثِ الزُّہْرِیِّ أَنَّ الَّذِیْ کَانَ فِیْہِ الِاشْتِرَاطُ مِنْ أَہْلِ بَرِیْرَۃَ ، أَنْ یَکُوْنَ الْوَلَائُ لَہُمْ وَاِبَائُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا اِلَّا أَنْ یَکُوْنَ الْوَلَائُ لَہَا ہُوَ أَدَائُ عَائِشَۃَ ، عَنْ بَرِیْرَۃَ الْکِتَابَۃَ .فَقَدْ اتَّفَقَ الزُّہْرِیُّ وَہِشَامٌ عَلَی ہٰذَا، وَخَالَفَا فِیْ ذٰلِکَ أَصْحَابَ الْأَحَادِیْثِ الْأُوَلِ ، وَزَادَ ہِشَامٌ عَلَی الزُّہْرِیِّ ، قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خُذِیْہَا وَاشْتَرِطِیْ ، فَاِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ ہٰکَذَا فِیْ حَدِیْثِ ہِشَامٍ وَمَوْضِعُ ہٰذَا الْکَلَامِ فِیْ حَدِیْثِ الزُّہْرِیِّ ابْتَاعِی وَأَعْتِقِی ، فَاِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ .فَفِیْ ہٰذَا اخْتَلَفَ ہِشَامٌ وَالزُّہْرِیُّ .فَاِنْ کَانَ الَّذِیْ یُعْتَبَرُ فِیْ ہٰذَا ، ہُوَ الضَّبْطُ وَالْحِفْظُ ، فَیُؤْخَذُ بِمَا رَوَی أَہْلُہٗ، وَیَتْرُکُ مَا رَوَی الْآخَرُوْنَ ، فَاِنَّ مَا رَوَی الزُّہْرِیُّ أَوْلَی ، لِأَنَّہٗ أَتْقَنُ وَأَضْبَطُ وَأَحْفَظُ ، مِنْ ہِشَامٍ .وَاِنْ کَانَ الَّذِیْ یُعْتَبَرُ فِیْ ذٰلِکَ ، ہُوَ التَّأْوِیْلُ ، فَاِنَّ قَوْلَہُ خُذِیْہَا قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ مَعْنَاہُ : ابْتَاعِیْہَا ، کَمَا یَقُوْلُ الرَّجُلُ لِصَاحِبِہٖ بِکَمْ آخُذُ ہٰذَا الْعَبْدَ یُرِیْدُ بِذٰلِکَ بِکَمْ أَبْتَاعُ ہٰذَا الْعَبْدَ ؟ .وَکَمَا یَقُوْلُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ خُذْ ہٰذَا الْعَبْدَ بِأَلْفِ دِرْہَمٍ یُرِیْدُ بِذٰلِکَ الْبَیْعَ .ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرِطِیْ فَلَمْ یُبَیِّنْ مَا تَشْتَرِطُ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ وَاشْتَرِطِیْ مَا یُشْتَرَطُ فِی الْبِیَاعَاتِ الصِّحَاحِ فَلَیْسَ فِیْ حَدِیْثِ ہِشَامٍ ہَذَا لَمَّا کَشَفَ مَعْنَاہٗ، خِلَافٌ لِشَیْئٍ مِمَّا فِیْ حَدِیْثِ الزُّہْرِیِّ ، وَلَا بَیَانٌ فِیْہِمَا کَیْفَ حُکْمُ الْبَیْعِ اِذَا وَقَعَ فِیْہِ مِثْلُ ہٰذَا الشَّرْطِ ، ہَلْ یَکُوْنُ فَاسِدًا ، أَوْ ہَلْ یَکُوْنُ جَائِزًا ؟ وَأَمَّا مَا احْتَجَّ بِہٖ الَّذِیْنَ أَفْسَدُوْا الْبَیْعَ بِذَلک الشَّرْطِ فَمَا
٥٥٢٧: ابن وہب نے مالک سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے۔ اس روایت میں بھی زہری کی روایت کی طرح ہے کہ بریرہ کے مالکان کی طرف سے ولاء کی شرط تھی اور انکار حضرت عائشہ (رض) کی طرف سے تھا کہ ولاء میری ہوگی تو میں یعنی عائشہ (رض) ، بریرہ کی طرف سے بدل کتابت ادا کر دوں گی۔ اب زہری اور ہشام دونوں اس بات پر متفق ہیں اور حدیث اوّل کے روات اس کے خلاف ہیں البتہ زہری نے ہشام سے چند الفاظ زائد بیان کئے ہیں۔ کہ ” خذیہا واشترطی ‘ فانما الولاء لمن اعتق ‘ کذا فی روایۃ ہشام “ روایت زہری میں کلام کی جگہ تو یہ الفاظ ہیں ” ابتاعی واعتقی ‘ فانما الولاء لمن اعتق “ اس میں ہشام و زہری کا اختلاف ہے۔ اگر ضبط و اتقان کا لحاظ کیا جائے تو ہشام سے زہری کا مرتبہ بڑھ کر ہے پس اس کی روایت کو لیا جائے اور دوسری روایت چھوڑ دی جائے۔ اگر تاویل کو دیکھا جائے تو ” خذیہا “ کا معنی خریدنا ہے جیسا کہ کہتے ہیں ” بکم اخذ ہذا العبد ؟ “ اس سے مراد خریدنا ہوتا ہے۔ جیسا کہتے ہیں ” خذ ہذا العبد بالف درہم “ مراد بیع کرنا ہے۔ پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” اشترطی “ مگر شرط کی وضاحت نہیں۔ تو ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ جو صحیح بیوع میں شرط لگاتے ہیں وہ لگا لو۔ روایت ہشام میں اس کا معنی ظاہر کرنے والی کوئی بات نہیں اور حدیث زہری کے کوئی بات مخالف بھی نہیں اور ان دونوں روایتوں میں یہ مذکور نہیں کہ جب ایسی شرط لگا دی جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا۔ بیع فاسد ہوگی یا جائز ہوگی۔