۵۵۴۴: حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، مَا یَدُلُّ أَنَّ أَرْضَ مَکَّۃَ تُمْلَکُ ، وَتُوْرَثُ، لِأَنَّہٗ قَدْ ذَکَرَ فِیْہَا مِیْرَاثَ عَقِیْلٍ وَطَالِبٍ ، لَمَّا تَرَکَہُ أَبُو طَالِبٍ فِیْہَا مِنْ رِبَاعٍ وَدُوْرٍ ، فَہٰذَا خِلَافُ الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ .وَلَمَّا اخْتَلَفَا ، اُحْتِیجَ اِلَی النَّظَرِ فِیْ ذٰلِکَ ، لِنَسْتَخْرِجَ مِنَ الْقَوْلَیْنِ ، قَوْلًا صَحِیْحًا .وَلَوْ صَارَ اِلَی طَرِیْقِ اخْتِیَارِ الْأَسَانِیدِ ، وَصَرَفَ الْقَوْلَ اِلَی ذٰلِکَ ، لَکَانَ حَدِیْثُ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ أَصَحَّہُمَا اِسْنَادًا .وَلٰـکِنَّا نَحْتَاجُ اِلَیْ کَشْفِ ذٰلِکَ مِنْ طَرِیْقِ النَّظَرِ ، فَاعْتَبَرْنَا ذٰلِکَ ، فَرَأَیْنَا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ، الَّذِی کُلُّ النَّاسِ فِیْہِ سَوَائٌ، لَایَجُوْزُ لِأَحَدٍ أَنْ یَبْنِیَ فِیْہِ بِنَائً ، وَلَا یَحْتَجِرَ مِنْہُ مَوْضِعًا ، وَکَذٰلِکَ حُکْمُ جَمِیْعِ الْمَوَاضِعِ الَّتِیْ لَا یَقَعُ لِأَحَدٍ فِیْہَا مِلْکٌ ، وَجَمِیْعُ النَّاسِ فِیْہَا سَوَاء ٌ .أَلَا تَرَی أَنَّ عَرَفَۃَ لَوْ أَرَادَ رَجُلٌ أَنْ یَبْنِیَ فِی الْمَکَانِ الَّذِیْ یَقِفُ فِیْہِ النَّاسُ فِیْہَا بِنَائً لَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ لَہٗ۔وَکَذٰلِکَ مِنًی لَوْ أَرَادَ أَنْ یَبْنِیَ فِیْہَا دَارًا ، کَانَ مِنْ ذٰلِکَ مَمْنُوْعًا ، وَکَذٰلِکَ جَائَ الْأَثَرُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٥٥٤٤: بحر بن نصر نے ابن وہب سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : اس روایت سے ثابت ہو رہا ہے کہ مکہ کی زمین کا مالک بنا جاسکتا ہے اور وراثت میں مل سکتی ہے کیونکہ اس میں عقیل و طالب کی وراثت کا اس جائداد کے متعلق تذکرہ ہے جو ابو طالب نے مرتے وقت چھوڑی اس میں زمین اور مکانات تھے یہ پہلی روایت کے مخالف ہے۔ جب اختلاف ہوا تو اب اس پر غور کی ضرورت ہے تاکہ صحیح ترین قول سامنے آجائے۔ اگر سند کو دیکھا جائے تو علی بن حسین والی روایت سند کے اعتبار سے مضبوط ہے۔ سوچ بچار سے معلوم ہوا کہ مسجد حرام جس میں تمام لوگ برابر ہیں اس میں تعمیر کی کسی کو اجازت نہیں اور نہ ہی اس کے کسی حصے کو ممنوع قرار دینے کی اجازت ہے یہی حکم ان تمام مقامت کا ہے جن میں کسی کی ملکیت نہیں ہوتی اور ان میں تمام لوگ برابر ہوتے ہیں۔ ذرا غور کریں کہ میدان عرفات میں تمام لوگ وقوف کرتے ہیں کوئی شخص عمارت بنانا چاہے تو اس کو جائز نہیں اسی طرح اگر کوئی شخص منیٰ میں عمارت بنانا چاہے تو اس کو روکا جائے گا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایات وارد ہیں۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس روایت سے ثابت ہو رہا ہے کہ مکہ کی زمین کا مالک بنا جاسکتا ہے اور وراثت میں مل سکتی ہے کیونکہ اس میں عقیل و طالب کی وراثت کا اس جائداد کے متعلق تذکرہ ہے جو ابو طالب نے مرتے وقت چھوڑی اس میں زمین اور مکانات تھے یہ پہلی روایت کے مخالف ہے۔
محاکمہ :
جب اختلاف ہوا تو اب اس پر غور کی ضرورت ہے تاکہ صحیح ترین قول سامنے آجائے۔
نمبر 1: اگر سند کو دیکھا جائے تو علی بن حسین والی روایت سند کے اعتبار سے مضبوط ہے۔
نمبر 2: سوچ بچار سے معلوم ہوا کہ مسجد حرام جس میں تمام لوگ برابر ہیں اس میں تعمیر کی کسی کو اجازت نہیں اور نہ ہی اس کے کسی حصے کو ممنوع قرار دینے کی اجازت ہے یہی حکم ان تمام مقامات کا ہے جن میں کسی کی ملکیت نہیں ہوتی اور ان میں تمام لوگ برابر ہوتے ہیں۔
ذرا غور کریں کہ میدان عرفات میں تمام لوگ وقوف کرتے ہیں کوئی شخص عمارت بنانا چاہے تو اس کو جائز نہیں اسی طرح اگر کوئی شخص منیٰ میں عمارت بنانا چاہے تو اس کو روکا جائے گا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایات وارد ہیں۔