۵۵۴۵: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مَرْوَانَ الضَّرِیْرُ الْکُوْفِیُّ ، قَالَ : ثَنَا اِسْرَائِیْلُ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَاہَکَ ، عَنْ أُمِّہٖ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : قُلْتُ ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، أَلَا نَتَّخِذُ لَک بِ مِنًی شَیْئًا تَسْتَظِلُّ بِہٖ ؟ .فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ ، اِنَّہَا مُنَاخٌ لِمَنْ سَبَقَ .أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَأْذَنْ لَہُمْ أَنْ یَجْعَلُوْا لَہُ فِیْہَا شَیْئًا یَسْتَظِلُّ بِہٖ ، لِأَنَّہَا مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ ، وَلِأَنَّ النَّاسَ کُلَّہُمْ فِیْہَا سَوَاء ٌ .
٥٥٤٥: یوسف بن ماھک نے اپنی والدہ سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم منیٰ میں آپ کے لیے کوئی چیز نہ بنادیں جس سے آپ سایہ حاصل کریں آپ نے فرمایا اے عائشہ ! وہ ان لوگوں کے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے جو پہلے پہنچ جائیں۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو اجازت مرحمت نہیں فرمائی کہ اس میں خیمہ بھی لگا سکیں کیونکہ وہ پہلے پہنچنے والے کے لیے اونٹ بٹھانے کی جگہ ہے۔ جہاں وہ بٹھا لے اور تمام لوگوں کا حق اس میں برابر ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی المناسک ص ٨٩‘ ترمذی فی الحج باب ٥١‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ٥٢‘ دارمی فی المناسک باب ٨٧‘ مسند احمد ٦؍١٨٧۔
لغات : المناخ۔ اونٹوں کا باڑہ۔