hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5548

.

الطحاوي

5548
Al Tahawi
۵۵۴۷: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِیُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ قَالَا : ثَنَا اِسْرَائِیْلُ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْمُہَاجِرِ ، عَنْ یُوْسُفَ بْنِ مَاہَکَ ، عَنْ أُمِّہٖ، وَکَانَتْ تَخْدُمُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ، فَحَدَّثَتْہُ عَنْ عَائِشَۃَ ، مِثْلَہٗ۔قَالَ : وَسَأَلَتْ أُمِّی مَکَانَ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بَعْدَمَا تُوُفِّیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْطِیَہَا اِیَّاہُ .فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ : لَا أُحِلُّ لَکَ وَلَا لِأَحَدٍ مِنْ أَہْلِ بَیْتِیْ أَنْ یَسْتَحِلَّ ہٰذَا الْمَکَانَ تَعْنِی مِنًی .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَہٰذَا حُکْمُ الْمَوَاضِعِ الَّتِی النَّاسُ فِیْہَا سَوَاء ٌ ، وَلَا مِلْکَ لِأَحَدٍ عَلَیْہَا ، وَرَأَیْنَا مَکَّۃَ عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ ، قَدْ أُجِیْزَ الْبِنَائُ فِیْہَا .رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَوْمَ دَخَلَہَا : مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِیْ سُفْیَانَ ، فَہُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَیْہِ بَابَہٗ، فَہُوَ آمِنٌ .
٥٥٤٧: یوسف بن ماھک نے اپنی والدہ سے روایت کی ہے کہ جو حضرت عائشہ (رض) کی خدمت کرتی تھیں انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ یوسف کہتے ہیں کہ میں نے اپنی ماں سے سے سوال کیا کہ حضرت عائشہ (رض) کا مکان جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد وہ مجھے دے دیں تو میری والدہ کو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا وہ جگہ میں نہ تیرے لیے جائز سمجھتی ہوں اور نہ اپنے گھر والوں میں سے کسی کے لیے (مراد منیٰ میں خیمہ والی جگہ) امام طحاوی (رح) کہتے ہیں : یہ حکم ان تمام مقامات کا ہے جو تمام لوگوں کے لیے برابر ہیں کہ ان پر کسی کا ملکیت والا حق نہیں مگر مکہ مکرمہ کا حکم اس کے خلاف ہے اس میں عمارات کی تعمیر درست ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا اس کو امن ہے اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے اس کو امن ہے۔
تخریج : مسلم فی الجہاد ٨٦‘ ابو داؤد فی الامارہ باب ٢٥۔