۵۵۴۸: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیّے صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَلَمَّا کَانَتْ مَکَّۃُ مِمَّا تُغْلَقُ عَلَیْہِ الْأَبْوَابُ ، وَمِمَّا تُبْنٰی فِیْہَا الْمَنَازِلُ ، کَانَتْ صِفَتُہَا ، صِفَۃَ الْمَوَاضِعِ الَّتِیْ یَجْرِیْ عَلَیْہَا الْأَمْلَاکُ ، وَیَقَعُ فِیْہَا الْمَوَارِیْثُ .فَاِنْ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فِیْ ذٰلِکَ بِقَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنَاہُ لِلنَّاسِ سَوَائَ اڑلْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ رُوِیَ فِیْ تَأْوِیْلِ ہٰذَا عَنِ الْمُتَقَدِّمِیْنَ
٥٥٤٨: عبداللہ بن رباح نے ابوہریرہ (رض) انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ روایت کی ہے (جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوجائے اس کو امن ہے) جب کہ مکہ مکرمہ کا یہ حال ہے کہ وہاں دروازے بند کئے جاتے ہیں اور یہ ان مقامات سے ہے جہاں عمارات بنائی جاتی ہیں تو اس کا حال ان مقامات کی طرح ہوگا جن پر ملک جاری ہوتی ہے اور وراثت نافذ ہوتی ہے۔ اگر کوئی دلیل پیش کرے کہ اگر کوئی آیت : { اَلْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ ١} (الحج ٢٥) کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس کے معاملے میں برابر ہے تو دعویٰ ملک کیونکر درست ہوا۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٢٩٢‘ ابو داؤد فی الامارۃ باب ٢٥۔