۵۵۷۹: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ ، وَاعَدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَاعَۃٍ یَأْتِیْہِ فِیْہَا ، فَذَہَبَتِ السَّاعَۃُ ، وَلَمْ یَأْتِہٖ۔فَخَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاِذَا بِجِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلَامُ عَلَی الْبَابِ ، فَقَالَ مَا مَنَعَکَ أَنْ تَدْخُلَ الْبَیْتَ ؟ .قَالَ اِنَّ فِی الْبَیْتِ کَلْبًا ، وَاِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ کَلْبٌ ، وَلَا صُوْرَۃٌ .فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْکَلْبِ فَأُخْرِجَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْکِلَابِ أَنْ تُقْتَلَ .
٥٥٧٩: ابو سلمہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس وقت آنے کا وعدہ کیا جس وقت آتے تھے وہ وقت گزر گیا اور وہ نہ آئے۔
پس جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے تو جبرائیل (علیہ السلام) دروازے پر تھے آپ نے فرمایا تمہیں گھر میں آنے سے کون سی رکاوٹ تھی ؟ انھوں نے کہا گھر میں کتا ہے اور ہم ایسے گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا اور تصویر ہو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتے کو نکالنے کا حکم دیا وہ نکال دیا گیا پھر آپ نے قتل کلاب کا حکم جاری فرمایا۔
تخریج : بخاری فی بدء الخلق باب ٧؍١٧‘ والمغازی باب ١٢‘ واللباس باب ٨٩‘ والترمذی فی الادب باب ٤٤‘ نسائی فی الطہارۃ باب ٦٧‘ والصید باب ٩؍١١‘ ابو داؤد فی الطہارۃ باب ٨٩‘ ابن ماجہ فی اللباس باب ٤٤‘ دارمی فی الاستیذان باب ٣٤‘ مسند احمد ١؍٨٠‘ ١٠٤‘ ٢؍٣٩٠‘ ٤‘ ٢٨؍٢٩‘ ٥؍٢٠٣‘ ٦‘ ١٤٣؍٣٣٠۔