۵۵۸۰: وَحَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِیُّ ، قَالَ : ثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ یَزِیْدَ أَخْبَرَہٗ أَنَّ سُفْیَانَ بْنَ أَبِیْ زُہَیْرٍ أَخْبَرَہٗ أَنَّہٗ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ أَمْسَکَ الْکَلْبَ فَاِنَّہٗ یَنْقُصُ مِنْ عَمَلِہٖ کُلَّ یَوْمٍ قِیْرَاطٌ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَکَانَ ہَذَا حُکْمُ الْکِلَابِ أَنْ تُقْتَلَ ، وَلَا یَحِلُّ اِمْسَاکُہَا وَلَا الِانْتِفَاعُ بِہَا .فَمَا کَانَ الِانْتِفَاعِ بِہٖ حَرَامًا وَاِمْسَاکُہٗ حَرَامًا فَثَمَنُہٗ حَرَامٌ .فَاِنْ کَانَ نَہْیُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْکَلْبِ کَانَ وَہٰذَا حُکْمُہَا ، فَاِنَّ ذٰلِکَ قَدْ نُسِخَ ، فَأُبِیْحَ الِانْتِفَاعُ بِالْکِلَابِ .وَرُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٥٥٨٠: سائب بن یزید کہتے ہیں کہ سفیان بن زہیر (رض) نے بتلایا کہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جس نے کتا باندھ کر رکھا اس کے اجر سے ہر روز ایک قیراط کم ہوجاتا ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : کتوں کے متعلق قتل کا حکم ہوا ان کو رکھنا اور فائدہ اٹھانا درست نہ تھا جب تک انتفاع حرام تھا اس وقت تک رکھتا اور قیمت بھی حرام تھی اگر نہی کی وہ روایات ہیں تو یہ حکم بھی موجود ہے۔ اگر یہ منسوخ ہے۔ تو انتفاع بھی مباح ہے۔
تخریج : مسند احمد ٢‘ ٤٢٨؍٤٧٣۔