۵۵۹۹: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ خَصِیْفَۃَ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔: غَیْرَ أَنَّہٗ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَ السَّائِبِ لِسُفْیَانَ أَسَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہٖ؟ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ ، فَلَمَّا ثَبَتَتِ الْاِبَاحَۃُ بَعْدَ النَّہْیِ ، وَأَبَاحَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیْ کِتَابِہٖ مَا أَبَاحَ بِقَوْلِہٖ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ اعْتَبَرْنَا حُکْمَ مَا یُنْتَفَعُ بِہٖ ، ہَلْ یَجُوْزُ بَیْعُہٗ، وَیَحِلُّ ثَمَنُہٗ أَمْ لَا ؟ فَرَأَیْنَا الْحِمَارَ الْأَہْلِیَّ قَدْ نُہِیَ عَنْ أَکْلِہٖ ، وَأُبِیْحَ کَسْبُہٗ وَالِانْتِفَاعُ بِہٖ ، فَکَانَ بَیْعُہٗ، اِذْ کَانَ ہَذَا حُکْمُہٗ، حَلَالًا ، وَثَمَنُہُ حَلَالٌ .وَکَانَ یَجِیْئُ فِی النَّظْرِ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ ، الْکِلَابُ ، لَمَّا أُبِیْحَ الِانْتِفَاعُ بِہَا ، حَلَّ بَیْعُہَا وَأَکْلُ ثَمَنِہَا .وَیَکُوْنُ مَا رُوِیَ فِیْ حُرْمَۃِ أَثْمَانِہَا کَانَ وَقْتَ حُرْمَۃِ الِانْتِفَاعِ بِہَا ، وَمَا رُوِیَ فِیْ اِبَاحَۃِ الِانْتِفَاعِ بِہَا ، دَلِیْلٌ عَلٰی حِلِّ أَثْمَانِہَا .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٥٥٩٩: مالک نے یزید بن خصیفہ سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ البتہ سائب کا یہ قول مذکور نہیں۔ أسمعت ہذا من رسول اللہ ؟ طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ممانعت کے بعد جب اباحت کا ثبوت ان آثار سے مل گیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے اس رشاد میں اباحت اتار دی : { وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ } (المائدہ : ٤) اب جس سے نفع اٹھایا جاسکے اس کے حکم کا اعتبار کیا۔ اب اس کے فروخت کا جواز اور اجرت کو حلال مانیں گے یا نہیں۔ اس کی فروخت کے جواز اور ثمن کے درست ہونے کے سلسلہ میں دیکھنا ہے چنانچہ پالتو گدھے کو دیکھیں کہ اس کے گوشت کا کھانا ممنوع ہے البتہ اس سے فائدہ اٹھانا اور کمائی میں معاونت لینا درست ہے پھر اس کی بیع کا حکم بھی یہی پایا جاتا ہے کہ وہ بھی حلال ہے اور اس کی اجرت بھی حلال ہے۔ تقاضا نظر یہی ہے کہ کتے کا بھی یہی حکم ہو کیونکہ اس سے انتفاع درست ہے اور اس کی فروخت اور قیمت کا کھانا جائز ہے اور وہ روایات جو اس کی ثمن کے حرام ہونے کے سلسلہ میں وارد ہیں وہ اس وقت سے متعلق ہیں جب انتفاع تھا اور جو انتفاع کے مباح ہونے کی روایت ہیں وہ اس کی ثمن کے حلال ہونے کا ثبوت ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔ (ہم گزشتہ سطور میں روایات ذکر کر آئے مگر ان روایات میں اضافہ ہے اس لیے ان کو بھی ذکر کیا جا رہا ہے) ۔
کیا ثمن کلب حلال ہے ؟ نظر طحاوی (رح) :
اس کی فروخت کے جواز اور ثمن کے درست ہونے کے سلسلہ میں دیکھنا ہے چنانچہ پالتو گدھے کو دیکھیں کہ اس کے گوشت کا کھانا ممنوع ہے البتہ اس سے فائدہ اٹھانا اور کمائی میں معاونت لینا درست ہے پھر اس کی بیع کا حکم بھی یہی پایا جاتا ہے کہ وہ بھی حلال ہے اور اس کی اجرت بھی حلال ہے۔
تقاضا نظر یہی ہے کہ کتے کا بھی یہی حکم ہو کیونکہ اس سے انتفاع درست ہے اور اس کی فروخت اور قیمت کا کھانا جائز ہے اور وہ روایات جو اس کی ثمن کے حرام ہونے کے سلسلہ میں وارد ہیں وہ اس وقت سے متعلق ہیں جب انتفاع جائز تھا اور جو انتفاع کے مباح ہونے کی روایت ہیں وہ اس کی ثمن کے حلال ہونے کا ثبوت ہیں۔
جواز و اباحت کی مزید تائید :
(ہم گزشتہ سطور میں روایات ذکر کر آئے مگر ان روایات میں اضافہ ہے اس لیے ان کو بھی ذکر کیا جا رہا ہے) ۔