hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5601

.

الطحاوي

5601
Al Tahawi
۵۶۰۰: وَقَدْ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُوْسُفَ الْفِرْیَابِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیْمٍ ، عَنْ سَلْمٰی أُمِّ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ قَالَ : جَائَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَیْہِ .فَأَذِنَ لَہٗ۔فَأَبْطَأَ فَأَخَذَ رِدَائَ ہٗ فَخَرَجَ .فَقَالَ قَدْ أَذِنَّا لَکَ قَالَ أَجَلْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .وَلٰـکِنَّا لَا نَدْخُلُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ وَلَا کَلْبٌ .فَنَظَرُوْا فَاِذَا فِیْ بَعْضِ بُیُوْتِہِمْ جِرْوٌ فَأَمَرَ أَبَا رَافِعٍ أَنْ لَا یَدَعَ کَلْبًا بِالْمَدِیْنَۃِ اِلَّا قَتَلَہٗ۔فَاِذَا بِامْرَأَۃٍ فِیْ نَاحِیَۃِ الْمَدِیْنَۃِ لَہَا کَلْبٌ یَحْرُسُ غَنَمَہَا قَالَ : فَرَحِمْتُہَا فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِیْ فَقَتَلْتُہٗ .فَأَتَاہُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .مَاذَا یَحِلُّ لَنَا مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الَّتِیْ أَمَرْتَنَا بِقَتْلِہَا ؟ .قَالَ : فَنَزَلَتْ : یَسْأَلُوْنَکَ مَاذَا أُحِلَّ لَہُمْ قُلْ أُحِلَّ لَکُمْ الطَّیِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ .
٥٦٠٠: سلمیٰ (رض) ام رافع نے ابو رافع سے روایت کی ہے۔ کہ جبرائیل (علیہ السلام) جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور اجازت طلب کی جو دے دی گئی مگر انھوں نے اندر آنے میں دیر کی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چادر مبارک لیے باہر تشریف لائے اور فرمایا ہم نے تمہیں اجازت دے دی جبرائیل بولے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جی ہاں۔ لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں تصویر اور کتا ہو۔ پس گھر والے لوگوں نے دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں کتے کا بچہ ہے پس آپ نے ابو رافع (رض) کو حکم فرمایا مدینہ منورہ میں جس کتے کو پائیں قتل کردیں اچانک وہ مدینہ کی ایک جانب میں پہنچے جہاں ایک عورت کے پاس ایک کتا پایا جو اس کی بکریوں کی حفاظت کرتا تھا۔ ابو رافع کہتے ہیں مجھے اس پر رحم آیا تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور صورت حال ذکر کردی تو آپ نے اس کے بھی مار ڈالنے کا حکم فرمایا۔ پھر آپ کی خدمت میں کچھ لوگ آ کر کہنے لگے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس مخلوق کے قتل کا حکم ملا ہے اس میں سے ہمارے لیے کیا جائز ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی یسئلونک ماذا احل لہم قل احل لکم الطیبات وما علمتم من الجوارح مکلبین “ (المائدہ : ٤)