۵۶۰۱: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْجُعْفِیُّ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِیْ زَائِدَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُوْسَی بْنُ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ .عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیْمٍ .عَنْ سَلْمَی أُمِّ رَافِعٍ .عَنْ أَبِیْ رَافِعٍ قَالَ : لَمَّا أَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْکِلَابِ .أَتَاہُ نَاسٌ فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ .مَا یَحِلُّ لَنَا مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ الَّتِیْ أَمَرْتُ بِقَتْلِہَا ؟ فَنَزَلَتْ یَسْأَلُوْنَکَ مَاذَا أُحِلَّ لَہُمْ قُلْ أُحِلَّ لَکُمْ الطَّیِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَیْضًا مِثْلُ مَا قَبْلَہٗ۔مِمَّا أَبَاحَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .بَعْدَ أَنْ أَمَرَ بِقَتْلِہَا .وَاِنْ کَانَ لَمْ یَذْکُرْ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ .غَیْرَ مَا یُضَادُّ بِہٖ مِنْہَا .وَفِیْہِ زِیَادَۃٌ عَلٰی مَا قَبْلَہٗ مِنَ الْأَحَادِیْثِ .فِی الْاِبَاحَۃِ الَّتِیْ ذَکَرْنَا .لِأَنَّ فِیْہِ نُزُوْلَ ہٰذِہِ الْآیَۃِ .بَعْدَ تَحْرِیْمِ الْکِلَابِ .وَأَنَّ ہٰذِہِ الْآیَۃَ أَعَادَتِ الْجَوَارِحَ الْمُکَلِّبِیْنَ اِلٰی أَنْ صَیَّرَتْہَا حَلَالًا .وَاِذَا صَارَتْ کَذٰلِکَ .کَانَتْ فِیْ سَائِرِ الْأَشْیَائِ الَّتِیْ ہِیَ حَلَالٌ .فِیْ حِلِّ اِمْسَاکِہَا .وَاِبَاحَۃِ أَثْمَانِہَا ، وَضَمَانِ مُتْلِفِیْہَا ، مَا أَتْلَفُوْا مِنْہَا کَغَیْرِہَا .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ عَمَّنْ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٥٦٠١: سلمیٰ ام رافع نے ابو رافع (رض) سے روایت کی ہے کہ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتوں کے قتل کا حکم فرمایا تو لوگوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اس مخلوق میں سے جس کے قتل کا حکم ہوا ہمارے لیے کیا حلال ہے ؟ تو یہ آیت اتری۔ ” یسئلونک ماذا احل لہم الایہ “ (المائدہ۔ ٤) اس روایت میں بھی ماقبل کی طرح اس چیز کی اباحت ہے جس کے قتل کا پہلے حکم فرمایا۔ اگرچہ اس روایت میں شکاری کتے کے علاوہ دوسرے کتوں کا تذکرہ موجود نہیں ہے اور اس روایت میں پہلی روایت اباحت سے کچھ اضافہ ہے کیونکہ ان میں آیت کا شان نزول ذکر کیا گیا اس کے بعد کہ ان کا رکھنا حرام کیا گیا تھا۔ اس آیت میں شکاری کتوں کے رکھنے کو جائز قرار دیا دوبارہ ذکر کیا یہاں تک کہ ان کا رکھنا حلال قرار دیا جب یہ صورت حال ہے تو کتوں کو رکھنے اور ان کی قیمت کے حلال ہونے اور ان کو ضائع کرنے والے پر تاوان واجب ہونے کے سلسلہ میں ان کا حکم دوسری حلال اشیاء کی طرح ہوگیا۔