۵۶۴۲: حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُوْرٍ الرَّازِیّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُنَیْنٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ ، قَالَ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، اِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ ، وَہُوَ عَلَیْنَا أَمِیْرٌ مَنْ أَعْطَی بِالدِّرْہَمِ مِائَۃَ دِرْہَمٍ ، فَلْیَأْخُذْہَا .فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الذَّہَبُ بِالذَّہَبِ ، وَزْنًا بِوَزْنٍ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَمَنْ زَادَ فَہُوَ رِبًا .وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : اِنْ کُنْتَ فِیْ شَکَ، فَسَلْ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ عَنْ ذٰلِکَ .فَسَأَلَہٗ فَأَخْبَرَہٗ أَنَّہٗ سَمِعَ ذٰلِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَقِیْلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَاسْتَغْفَرَ رَبَّہٗ وَقَالَ : اِنَّمَا ہُوَ رَأْیٌ مِنِّیْ .
٥٦٤٢: عبداللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ ایک عراقی ابن عمر (رض) سے کہنے لگا کہ ابن عباس (رض) نے کہا جبکہ وہ ہم پر گورنر تھے کہ جو ایک درہم کو بدلے سو درہم دے اس کو لے لو۔ ابن عمر (رض) کہنے لگے میں نے عمر بن خطاب (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سونے کے بدلے سونا وزن کر کے برابر دو ۔ جس نے اضافہ کیا اس نے ربا کا معاملہ کیا۔ ابن عمر (رض) کہنے لگے اگر تمہیں پھر بھی شک ہے تو ابو سعید خدری (رض) سے اس کے متعلق دریافت کرلو۔ اس نے ابو سعید سے پوچھا تو انھوں نے بتلایا کہ میں نے یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ابن عباس (رض) کو ابن عمر (رض) کی یہ بات نقل کی تو انھوں نے فوراً اللہ تعالیٰ سے استغفار کی اور کہا وہ بات میں نے اپنی رائے سے کہی تھی۔