۵۶۴۳: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ ثَنَا یَحْیٰی عَنِ التَّیْمِیِّ ، عَنْ أَبِیْ نَضْرَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ أَنْکَرَہُ فَقَالَ أَنّٰی لَکَ ہٰذَا ؟ قَالَ : اِشْتَرَیْتُہٗ بِصَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ قَالَ أَضْعَفْتَ أَرْبَیْتَ، أَوْ أَرْبَیْتَ أَضْعَفْت .
٥٦٤٣: ابو نضرہ بیان کرتے ہیں کہ ابو سعید نے بیان کیا کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں کھجور لے کر حاضر ہوا آپ نے اس پر تعجب کرتے ہوئے فرمایا تمہارے پاس یہ کیسے آئیں اس نے کہا میں نے یہ دو صاع کے بدلے خریدی ہیں۔ تو نے بڑھا کر سود کا معاملہ کیا یا تو نے سود والا معاملہ بڑھا کر کیا۔
تخریج : مسلم فی المساقاۃ ٩٩‘ مسند احمد ٣؍٦٠۔