۵۶۴۴: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُشَیْشٍ ، قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ قَالَ : ثَنَا قَتَادَۃُ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : أُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِصَاعِ تَمْرٍ رَیَّانَ ، وَکَانَ تَمْرُ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فَقَالَ أَنّٰی لَکُمْ ہٰذَا .فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، بِعْنَا صَاعَیْنِ مِنْ تَمْرٍ ، بِصَاعٍ مِنْ ہٰذَا ، فَقَالَ لَا تَفْعَلُوْا ، وَلٰـکِنْ بِیْعُوْا تَمْرَکُمْ ، وَاشْتَرُوْا مِنْ ہٰذَا .
٥٦٤٤: سعید بن المسیب نے ابو سعید خدری (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ کے پاس سیرابی والے درخت کی کھجور لائی گئیں اور آپ کی کھجور بارانی درخت کی تھیں آپ نے فرمایا تمہیں یہ کیسے میسر آئیں ؟ انھوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے دو کھجور کے بدلے ایک صاع لی ہیں تو آپ نے فرمایا ایسا مت کرو بلکہ اپنی کھجور فروخت کر کے اس سے یہ خرید لو۔
تخریج : نسائی فی البیوع باب ٤٠۔
لغات : البعل۔ بارانی کھجور۔ ریان۔ پانی سے سینچا ہوا۔