۵۶۵۲: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُوْسَی بْنِ أَبِیْ تَمِیْمٍ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَثَبَتَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ الْمُتَوَاتِرَۃِ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْفِضَّۃِ بِالْفِضَّۃِ ، وَالذَّہَبِ بِالذَّہَبِ ، مُتَفَاضِلًا ، وَکَذٰلِکَ سَائِرُ الْأَشْیَائِ الْمَکِیْلَاتِ ، الَّتِی قَدْ ذُکِرَتْ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا .فَالْعَمَلُ بِہَا أَوْلَی بِنَا ، مِنَ الْعَمَلِ بِحَدِیْثِ أُسَامَۃَ ، الَّذِیْ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ تَأْوِیْلُہٗ عَلٰی مَا قَدْ ذَکَرْنَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ .ثُمَّ ہَذَا أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْدِہٖ، قَدْ ذَہَبُوْا فِیْ ذٰلِکَ اِلَی مَا تَوَاتَرَتْ بِہٖ الْآثَارُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا .
٥٦٥٢: زہیر بن محمد نے موسیٰ بن ابی تمیم سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ان آثار متواترہ سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ چاندی کی بیع چاندی کے بدلے اور سونے کی بیع سونے کے بدلے تفاضل کی صورت میں ممنوع ہے تمام مکیلی و موزونی اشیاء جن کا آثار میں تذکرہ ہوا ان کا یہی حکم ہے۔ پس ان پر عمل کرنا اسامہ (رض) کی روایت پر عمل سے اولیٰ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ روایت اسامہ کی وہ تاویل کرلی جائے جو ہم نے اسی باب میں ذکر کی ہے۔ پھر یہ اصحاب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو آپ کے بعد اسی طرف گئے ہیں جو ان متواتر روایات میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وارد ہوا ہے۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ان آثار متواترہ سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ چاندی کی بیع چاندی کے بدلے اور سونے کی بیع سونے کے بدلے تفاضل کی صورت میں ممنوع ہے تمام مکیلی و موزونی اشیاء جن کا آثار میں تذکرہ ہوا ان کا یہی حکم ہے۔ پس ان پر عمل کرنا اسامہ (رض) کی روایت پر عمل سے اولیٰ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ روایت اسامہ کی وہ تاویل کرلی جائے جو ہم نے اسی بات میں ذکر کی ہے۔