۵۶۵۳: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا وَہْبٌ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُوْل : خَطَبَ عُمَرُ فَقَالَ : لَا یَشْتَرِیْ أَحَدُکُمْ دِیْنَارًا بِدِیْنَارَیْنِ ، وَلَا دِرْہَمًا بِدِرْہَمَیْنِ ، وَلَا قَفِیْزًا بِقَفِیْزَیْنِ ، اِنِّیْ أَخْشٰی عَلَیْکُمُ الرَّمَائَ وَاِنِّیْ لَا أُوْتٰی بِأَحَدٍ فَعَلَہٗ اِلَّا أَوْجَعْتُہٗ عُقُوْبَۃً ، فِیْ نَفْسِہٖ وَمَالِہٖ .
٥٦٥٣: جبلہ بن سحیم نے نقل کیا کہ میں نے ابن عمر (رض) کو حضرت عمر (رض) کا خطبہ نقل کرتے سنا تم میں کوئی ایک دینار کے بدلے دو دینار اور نہ ایک درہم کے بدلے دو درہم اور نہ ایک قفیز کے بدلے دو قفیز خریدے۔ مجھے اس میں تمہارے متعلق سود کا خطرہ ہے جو ایسا فعل کرتے پکڑا گیا اس کو مالی اور جانی سزا دی جائے گی۔
لغات : الرماء۔ الرباء۔ دونوں کا معنی سود ہے۔ النہایہ۔
تخریج : مالک فی البیوع ٣٤؍٣٥‘ مسند احمد ٢؍١٠٩‘ ٤؍٤۔