۵۶۵۸: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیْعِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ اِسْحَاقَ الْفَزَارِیّ ، عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ أَبِیْ صَالِحٍ السَّمَّانِ ، قَالَ : کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍ ، فَأَتَاہٗ رَجُلٌ فَقَالَ : یَکُوْنُ عِنْدِی الدَّرَاہِمُ ، فَلَا تُنْفِقْ عَنِّیْ فِیْ حَاجَتِی ، فَأَشْتَرِیْ بِہَا دَرَاہِمَ تَجُوْزُ عَنِّیْ، وَأَحْفِمُ فِیْہَا .قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ : اِشْتَرِ بِدَرَاہِمِکَ ذَہَبًا ، ثُمَّ اشْتَرِ بِذَہَبِکَ وَرِقًا ، ثُمَّ أَنْفِقْہَا فِیْمَا شِئْت .
٥٦٥٨: ابو صالح سمان کہتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کے ہاں بیٹھا تھا کہ ان کی خدمت میں ایک آدمی آ کر دریافت کرنے لگا کہ میرے پاس دراہم ہوتے ہیں وہ میری حاجت میں خرچ نہیں ہوتے کیا میں ان کے بدلے دوسرے دراہم خرید لوں تو یہ جائز ہوگا اور ان میں اپنی مرضی سے کم کر دوں۔ آپ نے فرمایا اپنے دراہم کے بدلے سونا خریدو پھر اس کی چاندی خرید کر جہاں چاہو خرچ کرو۔