hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 567

.

الطحاوي

567
Al Tahawi
۵۶۷ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا بَکْرُ بْنُ خَلَفٍ، قَالَ : ثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَبِیْ، عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَبِیْ حَرْبِ بْنِ أَبِی الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ (النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ فِی الرَّضِیْعِ : یُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِیَۃِ، وَیُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ) .
٥٦٧: ابو الاسود نے حضرت علی (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ پیتے بچے کے متعلق فرمایا کہ لڑکی کے پیشاب کو خوب دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب پر معمولی پانی ڈالا جائے گا۔
تخریج : ابو داؤد فی الطھارۃ باب ١٣٥‘ نمبر ٣٧٧‘ ترمذی فی الجمعہ باب ٧٧‘ نمبر ٦١٠‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ٧٧‘ ٥٢٥‘ مسند احمد ١؍٧٦؍٩٧۔
خلاصہ الزام : دودھ پیتے بچے اور بچی کے پیشاب کے حکم اور اس سے طہارت میں ائمہ فقہاء کے دو گروہ ہیں۔
فریق اوّل : جس میں امام شافعی و حنبل ومالک (رح) شامل ہیں جو بچے کے پیشاب کو پاک قرار دیتے ہیں اور کپڑے پر لگ جانے کی صورت میں اس پر پانی کے چھینٹے مارنا کافی قرار دیتے ہیں جبکہ بچی کا پیشاب ناپاک اور اس کے لیے کپڑے کو دھونا لازم ہے۔
فریق دوم : میں امام ابوحنیفہ ‘ جمہور فقہاء و محدثین ہیں وہ دونوں کے پیشاب کو یکساں قرار دیتے اور بہر دو صورت کپڑا دھونے کو لازم قرار دیتے ہیں۔