hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 566

.

الطحاوي

566
Al Tahawi
۵۶۶ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ، قَالَ : أَنَا زُہَیْرٌ، قَالَ : ثَنَا جَابِرٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : (مَا أَتٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْخَلَائَ إِلَّا تَوَضَّأَ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْہُ، وُضُوْئَ ہٗ لِلصَّلَاۃِ) .قَالُوْا : فَھٰذَا یَدُلُّ عَلٰی فَسَادِ مَا رَوَیْتُمُوْہُ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ أَحْیَانِہِ .قِیْلَ لَہٗ : مَا فِیْ ھٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی مَا ذَکَرْتُ، لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ کَانَ یَتَوَضَّأُ اِذَا خَرَجَ مِنَ الْخَلَائِ وَلَا یَتَوَضَّأُ اِذَا بَالَ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ الْحِیْنُ، حِیْنَ حَدَّثَ قَدْ کَانَ یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْہِ .فَیَکُوْنُ مَعْنٰی قَوْلِہَا " کَانَ یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْ کُلِّ أَحْیَانِہٖ " أَیْ فِیْ حِیْنِ طَہَارَتِہٖ وَحَدَثِہٖ، حَتّٰی لَا یَتَضَادَّ الْآثَارُ .مَعَ أَنَّہٗ قَدْ خَالَفَ ذٰلِکَ حَدِیْثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَالَ " لَا أُرِیْدُ الصَّلَاۃَ فَأَتَوَضَّأَ " .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ یَتَوَضَّأُ إِلَّا وَہُوَ یُرِیْدُ الصَّلَاۃَ .فَقَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ مَا حَضَرَتْ مِنْہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا مِنَ الْوُضُوْئِ عِنْدَ خُرُوْجِہٖ، إِنَّمَا ہُوَ لِاِرَادَتِہِ الصَّلَاۃَ، لَا لِلْخُرُوْجِ مِنَ الْخَلَائِ .وَیُحْتَمَلُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ إِخْبَارًا مِنْہَا عَمَّا کَانَ یَفْعَلُ قَبْلَ نُزُوْلِ الْآیَۃِ، وَمَا فِیْ حَدِیْثِ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ إِخْبَارًا مِنْہَا بِمَا کَانَ یَفْعَلُ بَعْدَ نُزُوْلِ الْآیَۃِ، حَتّٰی یَتَّفِقَ مَا رُوِیَ عَنْہَا، وَمَا رُوِیَ عَنْ غَیْرِہَا وَلَا یَتَضَادَّ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ .
٥٦٦: عبدالرحمن بن الاسود نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے نقل کیا کہ جب بھی آپ بیت الخلاء میں گئے اس سے فارغ ہو کر آپ نے نماز والا وضو فرمایا۔ معترضین کا کہنا یہ ہے کہ یہ روایت تو اس روایت کے خلاف ہے جو تم حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت کرتے ہو کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ہر وقت ذکر کرتے تھے۔ ان سے عرض کیا جائے گا اس میں تمہارے مقصد کی کوئی دلیل نہیں عین ممکن ہے کہ آپ ہر حالت میں ذکر کرتے ہوں یعنی طہارت اور بےوضوگی دونوں حالتوں میں ذکر کرتے ہوں۔ تاکہ روایات کا تعارض جاتا رہے اور یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حضرت ابن عباس (رض) والی روایت کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نماز کا جب ارادہ کرتا ہوں تو اس وقت وضو کرتا ہوں وہ اس روایت کے مخالف ہے۔ اس سے یہ دلیل مل گئی کہ آپ ارادہ نماز کے وقت وضو کرتے تھے اور ممکن ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے جس وضو کا بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد تذکرہ کیا ہے وہ نماز کے ارادہ سے ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) نے اس آیت کے اترنے سے پہلے حال کی خبر دی ہو اور وہ جو خالد بن سلمہ (رض) کی روایت میں آپ کا جو عمل مذکور ہے وہ نزول آیت کے بعد والا عمل ہو تاکہ اس سے حضرت عائشہ (رض) کی روایت اور دیگر روایات میں موافقت ہوجائے اور تضاد بالکل ختم ہوجائے۔
الجواب : بیت الخلاء سے فراغت پر وضو کرتے اور پیشاب کے فوراً بعد وضو نہ کرتے اور اس حالت میں ذکر کرتے۔
نمبر ٢: ” یذکُرُ اللّٰہ فی کل احیانہ “ کا مطلب یہ ہے کہ طہارت و حدث میں ذکر برابر کرتے یہ مفہوم اس لیے لیا تاکہ آثار کا تضاد ختم ہوجائے۔
نمبر ٣: یہ روایت حدیث ابن عباس (رض) ” لا ارید الصلٰوۃ فاتوضأ“ جو گزشتہ سطور میں مذکور ہے اس کے خلاف ہے پس ان آثار میں موافقت کی وہی صورت ہے جو ہم نے عرض کی کہ جب نماز کا ارادہ ہوتا تب آپ وضو فوراً فرما لیتے ورنہ اسی حالت میں (آسانی امت کے لئے) ذکر فرماتے ہر ذکر کے لیے وضو میں امت پر گرانی ہے۔
نمبر ٤: ممکن ہے کہ حضرت عائشہ (رض) والی روایت میں جس وضو کا تذکرہ ہے وہ ارادہ صلوۃ ہی کے لیے ہو اس لیے نہیں کہ آپ بیت الخلاء سے ابھی نکلے ہیں اور اس کی وجہ سے وضو ضروری ہے۔
نمبر ٥: اور یہ بھی ممکن ہے کہ نزول آیت سے پہلے والی حالت کی اطلاع مقصود ہو اور خالد بن سلمہ والی روایت میں نزول آیت کے بعد والی حالت کا اظہار مقصود ہو۔ تاکہ روایات کا باہمی تضاد باقی نہ رہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ امام طحاوی (رح) کا اس باب میں مقصود اصلی تو پہلی روایات کے نسخ کو ثابت کرنا ہے اسی وجہ سے ناسخ روایات کی تائیدات کثرت سے پیش کی گئیں نیز انہی روایات کے روات کے فتاویٰ پیش کئے تاکہ ان کے ہاں سے بھی نسخ کا ثبوت میسر ہو اور دلیل نظری سے صرف نظر کی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔