۵۶۷۴: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ أَبِی الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِیِّ ، أَنَّہٗ قَالَ : قَدِمَ نَاسٌ فِیْ اِمَارَۃِ مُعَاوِیَۃَ ، یَبِیْعُوْنَ آنِیَۃَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ اِلَی الْعَطَائِ .فَقَامَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ، فَقَالَ : اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، نَہٰی عَنْ بَیْعِ الْمُذَہَّبِ بِالذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ بِالْفِضَّۃِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالشَّعِیْرِ بِالشَّعِیْرِ ، وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، سَوَائً بِسَوَائٍ ، فَمَنْ زَادَ ، أَوْ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَی .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَا کَانَ مِنْ اِنْکَارِ عُبَادَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی مُعَاوِیَۃَ ، وَہُوَ بَیْعُ الذَّہَبِ بِالذَّہَبِ ، اِلٰی أَجَلٍ ، لَا غَیْرَ ذٰلِکَ .وَأَمَّا الْقِلَادَۃُ ، الَّتِیْ فِیْہَا الذَّہَبُ الْمَبِیْعَۃُ بِالذَّہَبِ ، أَوْ الْقِلَادَۃُ الَّتِیْ فِیْہَا الْفِضَّۃُ الْمَبِیْعَۃُ بِالْفِضَّۃِ ، فَلَا دَلَالَۃَ فِیْمَا رَوَیْنَا عَنْہُ، عَلٰی حُکْمِ ذٰلِکَ اِذَا بِیْعَ بِأَکْثَرَ مِنْ وَزْنِ ذَہَبِہٖ أَوْ فِضَّتِہٖ، مِنَ الذَّہَبِ أَوْ الْفِضَّۃِ .
٥٦٧٤: ابو قلابہ نے ابوالاشعث صنعانی سے روایت کی ہے کہ حضرت معاویہ (رض) کے زمانے میں کچھ لوگ آئے جو سونے اور چاندی کے برتن عطیات کے ملنے تک کے وعدے پر فروخت کرتے تھے حضرت عبادہ (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا بیشک جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کو سونے کے بدلے چاندی کو چاندی کے بدلے گندم کو گندم کے بدلے اور کھجور کو کھجور کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا مگر جبکہ وہ دونوں برابر برابر ہوں جس نے زیادہ لیا دیا اس نے سود کھایا۔ امام طحاوی (رح) کہتے ہیں حضرت عبادہ (رض) کا حضرت معاویہ (رض) پر اعتراض سونے کو (ادھار) میعاد تک فروخت کرنے کی وجہ سے تھا اور کسی وجہ سے نہ تھا۔ جہاں تک اس ہار کا تعلق ہے جس میں جڑا ہوا سونا ‘ سونے کے بدلے فروخت کیا گیا یا وہ ہار جس میں جڑی ہوئی چاندی چاندی کے بدلے فروخت کی گئی ان روایات میں اس سے متعلق حکم پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے کہ جب اس ہار کو اس سے زیادہ سونے یا اس کی چاندی سے زیادہ چاندی کے بدلے فروخت کیا جائے۔ اس مسئلہ میں تابعین کی رائے مختلف ہے