hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5689

.

الطحاوي

5689
Al Tahawi
۵۶۸۸: حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ یَحْیَی قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِدْرِیْسَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عُمَرَ أَنَّہٗ أَبْصَرَ فَرَسًا تُبَاعُ فِی السُّوْقِ وَکَانَ تَصَدَّقَ بِہٖ فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَشْتَرِیْہٖ؟ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَشْتَرِہِ وَلَا شَیْئًا مِنْ نِتَاجِہِ أَیْ مِمَّا یُنْتِجُہُ مِنَ الْوَلَدِ .فَمَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنْ یَبْتَاعَ مَا کَانَ تَصَدَّقَ بِہٖ أَوْ شَیْئًا مِنْ نِتَاجِہِ وَجَعَلَہُ اِنْ فَعَلَ ذٰلِکَ کَالْکَلْبِ یَعُوْدُ فِیْ قَیْئِہٖ۔ فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ بِمُوْجِبِ حُرْمَۃِ ابْتِیَاعِ الصَّدَقَۃِ عَلَی الْمُتَصَدِّقِ بِہَا وَلٰـکِنْ تَرْکُ ذٰلِکَ أَفْضَلُ لَہٗ۔فَکَذٰلِکَ مَا ذَکَرْنَا قَبْلَ ہَذَا لِمَا ذُکِرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الرُّجُوْعِ فِی الْہِبَۃِ لَیْسَ عَلَی تَحْرِیْمِ ذٰلِکَ سَوَاء ٌ وَلٰـکِنَّہٗ لِأَنَّ تَرْکَہُ أَفْضَلُ .
٥٦٨٨: زید بن اسلم نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے بازار میں ایک گھوڑا فروخت ہوتے دیکھا اور وہ وہی گھوڑا تھا جو صدقہ میں دیا جا چکا تھا چنانچہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ کیا میں اس کو خرید لوں تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے مت خریدو اور نہ اس کے بچوں میں سے کسی کو خریدو۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو اس چیز کے خریدنے سے روک دیا جس کو انھوں نے صدقہ کیا تھا۔ اسی طرح اس کی اولاد کی خریداری سے روک دیا اور اس فعل کو اس کتے کے فعل کی طرح قرار دیا جو قے کر کے لوٹاتا ہے تو اس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ صدقہ کرنے والے کے لیے صدقہ کے مال کو خریدنا حرام ہے بلکہ اس کو چھوڑنا (نہ خریدنا) افضل ہے۔ اسی طرح جو پہلے ذکر ہوا اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہبہ کو واپس لینے کے سلسلہ میں جو کچھ فرمایا اس سے اس کی حرمت مراد نہیں بلکہ (اس سے کراہت دلا کر) اس کے چھوڑنے کا افضل ہونا ظاہر فرمایا۔
تخریج : بخاری فی الہبہ باب ٣٧‘ مسند احمد ١؍٢٥‘ ٣٧۔