hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5707

.

الطحاوي

5707
Al Tahawi
۵۷۰۶: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ حَدَّثَاہُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ اِنَّ أَبَاہُ أَتَی بِہٖ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنِّیْ نَحَلْتُ ابْنِیْ ہَذَا غُلَامًا کَانَ لِی .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَکُلَّ وَلَدِک نَحَلْتُہٗ مِثْلَ ہَذَا فَقَالَ : لَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَارْجِعْہُ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا نَحَلَ بَعْضَ بَنِیْہِ دُوْنَ بَعْضٍ أَنَّ ذٰلِکَ بَاطِلٌ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ وَقَالُوْا : قَدْ کَانَ النُّعْمَانُ فِیْ وَقْتِ مَا نَحَلَہٗ أَبُوْھُ صَغِیْرًا فَکَانَ أَبُوْھُ قَابِضًا لَہُ لِصِغَرِہِ عَنِ الْقَبْضِ لِنَفْسِہٖ۔ فَلَمَّا قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُرْدُدْہُ بَعْدَمَا کَانَ فِیْ حُکْمِ مَا قَبَضَ دَلَّ ہَذَا أَنَّ النُّحْلَی مِنَ الْوَالِدِ لِبَعْضِ وَلَدِہِ دُوْنَ بَعْضٍ لَا یَمْلِکُہُ الْمَنْحُوْلُ وَلَا یَنْعَقِدُ لَہٗ عَلَیْہِ ہِبَۃٌ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : یَنْبَغِیْ لِلرَّجُلِ أَنْ یُسَوِّیَ بَیْنَ وَلَدِہِ فِی الْعَطِیَّۃِ لِیَسْتَوُوْا فِی الْبِرِّ وَلَا یُفَضِّلُ بَعْضَہُمْ عَلَی بَعْضٍ فَیُوْقِعُ ذٰلِکَ لَہُ الْوَحْشَۃَ فِیْ قُلُوْبِ الْمَفْضُوْلِیْنَ مِنْہُمْ .فَاِنْ نَحَلَ بَعْضَہُمْ شَیْئًا دُوْنَ بَعْضٍ وَقَبَضَہُ الْمَنْحُوْلُ لِنَفْسِہِ اِنْ کَانَ کَبِیْرًا أَوْ قَبَضَہُ لَہٗ أَبُوْھُ مِنْ نَفْسِہِ اِنْ کَانَ صَغِیْرًا بِاِعْلَامِہِ اِیَّاہُ وَالْاِشْہَادِ بِہٖ فَہُوَ جَائِزٌ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ حَدِیْثَ النُّعْمَانِ الَّذِیْ ذٰکَرْنَا قَدْ رُوِیَ عَنْہُ عَلٰی مَا ذَکَرُوْا وَلَیْسَ فِیْہِ دَلِیْلٌ أَنَّہٗ کَانَ حِیْنَئِذٍ صَغِیْرًا وَلَعَلَّہٗ وَقَدْ کَانَ کَبِیْرًا وَلَمْ یَکُنْ قَبَضَہُ .وَقَدْ رُوِیَ أَیْضًا عَلٰی غَیْرِ ہٰذَا الْمَعْنَی الَّذِیْ فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ .
٥٧٠٦: محمد بن نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے انھوں نے نعمان بن بشیر (رض) روایت کی ہے کہ میرے والد مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام کا عطیہ دیا ہے جو غلام کہ میرا تھا۔ اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے اس جیسا غلام اپنے ہر لڑکے کو دیا ہے ؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے واپس لوٹا لو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : علماء کے ایک فریق کا خیال یہ ہے کہ اگر ایک لڑکے کو دوسروں کو چھوڑ کر عطیہ دیا تو یہ عطیہ باطل ہے۔ مندرجہ بالا روایت دلیل ہے۔ جب نعمان کو ان کے والد نے یہ عطیہ دیا اس وقت وہ بہت چھوٹے بچے تھے ان کا والد اس غلام پر قابض تھا اور وہ اپنی نو عمری سے اس پر قبضہ نہ کرسکتے تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ارددہ “ کہ اس کو واپس کر دو ۔ جب حکماً ان کا قبضہ ہوگیا تو آپ نے لوٹانے کا حکم دیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ عطیہ والد نے اپنے ایک لڑکے کو دیا تھا اور جس کو دیا گیا وہ اس کا مالک نہ تھا اور نہ اس کا ہبہ منعقد ہوا۔ دوسروں نے کہا والد کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے عطیات میں برابری برتے تاکہ وہ احسان میں برابر ہوں ان میں کوئی ایک دوسرے سے کم زیادہ نہ ہو۔ اس نے جن کو کم دیا گیا ان کے دلوں میں دوری پیدا ہوگی اگر اس نے کچھ چیزیں ایک کو دیں اور اس نے قبضہ کرلیا یہ سمجھ کر کہ یہ میری ہے اگر وہ بڑا یا والد نے اس کی طرف سے قبضہ کرلیا جبکہ وہ چھوٹا تھا تاکہ اس کو بتلا دیا جائے کہ یہ اس کی چیز ہے اور اس پر گواہ بھی بنائے تو یہ درست ہے۔ روایت نعمان اس طرح بھی مروی ہے مگر اس کے علاوہ دیگر روایات میں اور طرح مروی ہے ان روایات سے نعمان کا چھوٹا بچہ ہونا ثابت نہیں ہوتا شاید وہ بڑے تھے مگر انھوں نے غلام پر قبضہ نہ کیا تھا۔ یہ روایت دوسری سند سے۔
تخریج : بخاری فی الہبہ باب ١٢‘ مسلم فی الہبات ٩؍١٠‘ نسائی فی النحل باب ١‘ مالک فی الاقضیہ ٣٩۔