hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5708

.

الطحاوي

5708
Al Tahawi
۵۷۰۷: فَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ بْنُ نَاصِحٍ قَالَ : ثَنَا وُہَیْبٌ عَنْ دَاوٗدَ بْنِ أَبِیْ ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ : انْطَلَقَ بِیْ أَبِیْ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحَلَنِیْ نُحْلَی لِیُشْہِدَہُ عَلٰی ذٰلِکَ فَقَالَ أَکُلَّ وَلَدِک نَحَلْتَہُ مِثْلَ ہَذَا فَقَالَ : لَا .قَالَ : أَیَسُرُّک أَنْ یَکُوْنُوْا اِلَیْکَ فِی الْبِرِّ کُلُّہُمْ سَوَائً قَالَ : بَلَی قَالَ : فَأَشْہِدْ عَلٰی ہَذَا غَیْرِی .فَکَانَ وَالَّذِیْ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مِنْ قَوْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِبَشِیْرٍ فِیْمَا کَانَ نَحَلَہُ النُّعْمَانُ أَشْہِدْ عَلٰی ہَذَا غَیْرِی .فَہٰذَا دَلِیْلٌ أَنَّ الْمِلْکَ ثَابِتٌ لِأَنَّہٗ لَوْ لَمْ یَثْبُتْ لَا یَصِحُّ قَوْلُہٗ .فَہٰذَا بِخِلَافِ مَا فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ لِأَنَّ ہٰذَا الْقَوْلَ لَا یَدُلُّ عَلَی فَسَادِ الْعَقْدِ الَّذِیْ کَانَ عَقَدَہُ النُّعْمَانُ لِأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ یَتَوَقَّی الشَّہَادَۃَ عَلٰی مَالِہِ أَنْ یُشْہِدَ عَلَیْہِ وَعَلَی الْأُمُوْرِ الَّتِی قَدْ کَانَتْ .وَکَذٰلِکَ لِمَنْ بَعْدَہُ لِأَنَّ الشَّہَادَۃَ اِنَّمَا ہِیَ أَمْرٌ یَتَضَمَّنُہُ الشَّاہِدُ لِلْمَشْہُوْدِ لَہٗ فَلَہٗ أَنْ لَا یَتَضَمَّنَ ذٰلِکَ .وَقَدْ یُحْتَمَلُ غَیْرُ ہَذَا أَیْضًا فَیَکُوْنُ قَوْلُہٗ أَشْہِدْ عَلٰی ہَذَا غَیْرِی أَیْ : اِنِّیْ أَنَا الْاِمَامُ وَالْاِمَامُ لَیْسَ مِنْ شَأْنِہٖ أَنْ یَشْہَدَ وَاِنَّمَا مِنْ شَأْنِہٖ أَنْ یَحْکُمَ .وَفِیْ قَوْلِہٖ أَشْہِدْ عَلٰی ہَذَا غَیْرِی دَلِیْلٌ عَلَیْ صِحَّۃِ الْعَقْدِ .
٥٧٠٧: عامر شعبی نے نعمان (رض) سے روایت کی ہے کہ میرے والد مجھے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے گئے میرے والد نے مجھے ایک عطیہ دیا تھا وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گواہ بنانا چاہتے تھے آپ نے فرمایا کیا تم نے اپنی تمام اولاد کو اس قسم کا عطیہ دیا ہے انھوں نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا کیا تم کو یہ پسند ہے کہ وہ بھلائی میں سب تمہارے ہاں برابر ہوں انھوں نے کہا جی ہاں کیوں نہیں آپ نے فرمایا پھر تم میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔ اس روایت میں حضرت نعمان کو عطیہ دینے پر حضرت بشیر (رض) کو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی اور کو گواہ بنانے کا حکم فرمایا ہے پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ نعمان کے لیے ملک ثابت تھی کیونکہ اگر ان کی ملک ثابت نہ ہوتی تو آپ اس پر کسی دوسرے کو گواہ بنانے کا حکم نہ فرماتے۔ اس روایت کا مضمون پہلی روایت کے خلاف ہے کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض اوقات ان معاملات پر گواہ بننے سے احتراز فرماتے تھے جن پر آپ کو گواہ بننا جائز ہوتا اسی طرح وہ امور جو ہوچکے ہوتے نیز آپ کے بعد والے حضرات کے لیے بھی ایسا کرنا جائز تھا کیونکہ شہادت ایک ایسا معاملہ ہے جس میں شاہد مشہود کے لیے ضامن بنتا ہے اور آپ کو حق تھا کہ ضامن نہ بنتے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ نے اور کو گواہ بنانے کا فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں حاکم ہوں اور گواہ بننا امام و حاکم کی شان نہیں بلکہ وہ تو امور کا فیصل ہے آپ کا یہ فرما دینا میرے علاوہ اور کسی کو گواہ بناؤ۔ صحت عقد کی دلیل ہے۔
تخریج : مسلم فی الفرائض ٣٤‘ والہبات ١٧‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٨٣‘ ابن ماجہ فی الہبات باب ١‘ مسند احمد ٤‘ ٢٦٩؍٢٧٠۔